مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 78
د دمشعل مل راه جلد دوم ہیں۔فرمودہ ۱۹۶۷ء 78 اب یورپ میں بھی ایک حرکت پیدا ہوئی ہے اور میرے دورہ کے بعد ایک شور مچا ہے۔سویڈن اور ڈنمارک میں ہمارے دورہ کے بعد دس بیعتیں ہو چکی ہیں۔جب کہ گزشتہ سارے سال میں دو یا تین بیعتیں ہوئی تھیں۔خالی یہی نہیں بلکہ وہاں کے پادریوں کو بڑی تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔اس لئے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں سے فرشتوں کے نزول کے ساتھ ان اقوام کے دلوں میں ایک محیر العقول تبدیلی پیدا کر دی ہے اور وہ یہ کہ ان کے عقائد جو کہ خالص عیسائی پرانے غلط اور نامعقول عقائد تھے۔ان کو بدل دیا ہے اور ان کے عقائد مسلمانوں کے عقائد سے بہت کچھ ملنے لگے ہیں۔چنانچہ ڈنمارک کا چرچ جو ٹیسٹ چرچ ہے۔ہر بچہ جو وہاں پیدا ہوتا ہے وہ قانو نالوتھر چرچ کا ممبر ہوتا ہے۔اس کی ایک بلیٹن شائع ہوئی ہے۔اس بلیٹن میں انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ڈنمارک کے رہنے والوں کے عام عقائد بالکل ویسے ہیں جیسے مسلمانوں کے عقائد ہوتے ہیں۔اس فرق کے ساتھ کہ مسلمان اللہ کہتے ہیں اور یہ لوگ لارڈ کہتے ہیں۔مسلمان محمد رسول اللہ علی اللہ کو اپنا رسول کہتے ہیں۔اور یہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اپنا رسول کہتے ہیں جن پر خدا تعالی کی وحی نازل ہوئی اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر لوگوں کو ہدایت دینے کی کوشش کی۔پھر انہوں نے رونا رویا ہے کہ یہ تو عیسائیت نہیں۔عیسائیت کا اصل اور بنیادی عقیدہ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ خود آسمان سے زمین پر آیا اور اس نے ایک انسان کے جسم میں حلول کیا اور پھر پھانسی پر لٹکا۔پھر کفارہ تثلیث وغیرہ وغیرہ عقائد ہیں۔اور لکھنے والے کے دماغ پر اس حد تک اثر ہے کہ اس نے جہاں یہ کہا ہے کہ ان دونوں مذہبوں ( ڈنمارک کے رہنے والوں کا مذہب اور اسلام) کے عقائد آپس میں ملتے ہیں وہاں اس نے یہ فقرہ بھی استعمال کیا ہے کہ دونوں مذہبوں کے عقائد اسی طرح ملتے ہیں جیسے پانی کے دو قطرے آپس میں ملتے ہیں۔وہاں میں نے ان قوموں کو ڈرایا تھا کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور محمد رسول اللہ علیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ۔ورنہ ایک عظیم ہلاکت تمہارے سروں پر منڈلا رہی ہے۔میرے اس اندار کا کئی طور پر اثر ہوا ہے۔ایک اثر یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہمارے عبدالسلام صاحب ہیڈ مشن نے پہلے بھی مجھے ایک خط لکھا اور کچھ حوالے بھجوائے کہ آپ نے جو انذار کیا ہے اس کے مطابق اب لوگوں نے باتیں کرنی شروع کر دی ہیں۔اب ان کا دوسرا خط آیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ انگلستان کے ایک پادری نے یہ اعلان کیا ہے کہ تین مہینہ کے اندر اندر دنیا انے تھرمونیوکلیئر وار سے تباہ ہو جائے گی سوائے اس کے کہ وہ اس پادری کے گرجے میں جمع ہو جائے اور اس کی باتوں کو قبول کرے۔میں نے ان کو خط لکھا کہ ہے آپ ہر ممکن ذریعہ سے اپنے ملک میں یہ اعلان کریں کہ اس پادری نے جو کچھ کہا ہے غلط ہے۔اس پادری نے یہ بھی لکھا ہے کہ خدائے واحد نے مجھے الہا ما بتایا ہے۔میں نے انہیں لکھا کہ یہ پادری جھوٹ بولتا ہے اس کو قطعا اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ یہ نہیں بتایا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اگلے تین مہینے خدا تعالیٰ کے فضل سے امن میں گزریں گے اور دنیا ” تھرمونیوکلیئر وار سے تباہ نہیں ہوگی اور میں