مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 591
591 فرموده ۱۹۸۲ء د و مشعل راه جلد دوم دد پیچھے بہے گا ضرور وزن ہے اس کو دھکیلتا ہے وزن پیچھے لیکن پیٹ نہیں دکھائے گا۔اور ان چار ہزار گھوڑ سوار فوج کو کہا جب میں اشارہ کروں پیچھے سے حملہ کرنا ایرانی فوج پر اور اس عرصے میں ( تاریخ کہتی ہے مجھے صحیح یاد نہیں) وہ میں دو میل پیچھے ہے۔کیونکہ چودہ ہزار کے مقابلہ میں ستر اسی ہزار کی فوج کا دباؤ جو تھا وہ دباؤ ہی ان کو پیچھے دھکیل رہا تھا۔یعنی تلوار چلاتے ہوئے ان کو قدم بہ قدم پیچھے ہٹنا پڑ رہا تھا اور پھر جب اشارہ کیا تو انہوں نے پیچھے سے حملہ کہ اور وہ بظاہر شکست کی تصویر فتح کی حقیقت میں تبدیل ہوگئی۔ی تو کل کا نتیجہ تھا۔یہ تقوی کا نتیجہ تھایہ خدا تعالیٰ کو پہچان کے اپنی زندگیاں گزارنے کا نتیجہ تھا۔یہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ جو متقی ہو گا خدا تعالیٰ ان کی راہوں کو ہموار کرے گا اور ان کی کامیابیوں کے سامان پیدا کرے گا۔یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ اللہ سب سے زیادہ طاقتور ہے اور جس سے وہ پیار کرتا ہے کوئی غیر اس کے اوپر غالب نہیں آ سکتا۔اور کھلے بندوں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا اعلان کیا۔چودہ سو سال ان مسلمانوں نے جو اس لعلیم پر کما حقہ پوری طرح مومنون حقا کی جماعتیں بنتے ہوئے کاربند رہے یہ نظارے دیکھے۔تلوار خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے ہاتھ سے اس زمانہ میں چھین لی نہیں رہنے دی۔اس لئے کہ غلطی سے پہلے زمانوں میں بھی تلوار کے ذریعہ سے اسلام نہیں پھیلا تھا۔دشمن کا مقابلہ کرنے اور اپنے دفاع کے لیے تلوار کا استعمال کیا گیا تھا۔لیکن یہ جو پادری اور دوسرے متعصب غیر مسلم تھے انہوں نے غلط اعتراضات اسلام اور محمد پر کرنے شروع کئے۔تب خدا نے کہا جب ابو جہل کے ساتھیوں کی طاقت کے مقابلہ میں اسلام دشمن طاقتیں کروڑوں گنے زیادہ ہو چکی ہوں گی (اب ابو جہل کی تلوار کے مقابلے میں ایٹم بم کی جو طاقت ہے آج کی دنیا کی وہ کروڑوں گنے زیادہ ہے یا نہیں ہے؟) اس وقت میں مسلمان کے ہاتھ سے تلوار لے لوں گا اور کہوں گا کہ بغیر تلوار کے ان کا مقابلہ کرو اور مجھ پر تو کل رکھو۔بغیر تلوار کے تم دوسرے ذریعے ہیں ان کا دل جیتو گے اور یہ اپنی طاقت تمہارے خلاف استعمال نہیں کریں گئے تمہارے قدموں میں لاکے ڈال دیں گے اور محمد الیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے ہونگے۔بہت بڑا کام ہے جو آپ کے سپر د کیا گیا ہے، بہت ہی بڑا۔میرے جیسا عاجز انسان کوئی اور عاجز انسان جو خدا کے حضور دعائیں کرنے والے اور غور کرنے والے ان باتوں کے ہیں، اپنے الفاظ میں اس مقصد کی اہمیت اور عظمت کو بیان نہیں کر سکتے، لیکن ہے بڑا عظیم کام۔جس حد تک ممکن ہو ہر وقت اپنے دماغ میں یہ رکھو کہ میں احمدی طفل یا خادم ہوں اور میرے اوپر جو ذمہ داری ہے وہ آج کی دنیا میں کسی اور پر ذمہ داری نہیں ہے اور اگر میں نے غلطی کی تو دنیا کی نوع انسانی کی ہلاکت ممتد ہو جائے گی یعنی نتیجہ اس کا یہ ہوگا کہ یہ انسان انسانیت جو ہے وہ ہلاک ہو جائے گی اور اگر میں نے اپنی حقیر کوششوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر لیا تو مجھے بھی خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتیں مل جائیں گے اور میرے بھائی انسان بھی شیطان کی سلطنت سے باہر کھینچ لئے جائیں گے اور خدا تعالیٰ کے پیار کے اور رحمت کے سایہ میں آجائیں گے اور ان کی زندگیوں کا مقصد بھی انہیں حاصل