مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 55

55 فرمودہ ۱۹۶۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد عمل کریں گے اور دوسروں سے قرآن شریف کی شریعت پر عمل کروائیں گے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ہم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرتے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی شیطانی آواز پر لبیک کہنے والے نہیں۔صرف اپنے اللہ کی آواز پر ہم کان دھرتے اس کو سنتے اور اس کی اطاعت کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل اپنے اللہ کے خوف سے بھرے ہوئے ہیں تو ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں جو کہا اور ہم سے جس رنگ میں اطاعت کا مطالبہ کیا۔اس رنگ میں ان باتوں میں ہم اس کی اطاعت کریں گے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے خلفاء کی معروف اوامر میں کامل اطاعت کرنے والے ہوں گے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا خوف اور اس کی خشیت ہمارے دل میں ہے تو ہم یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو جماعت اپنے ہاتھ سے قائم کی ہے۔ہم اس کی ترقی کے لئے اس کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوں گے۔یہ معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے خوف کے۔اللہ تعالیٰ کے خوف کے یہ معنی نہیں کہ یہ کہہ دیا کہ ہم خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور پھر سمجھ لیا کہ اب مادر پدر آزاد ہو گئے ہیں۔ہم اس اعلان کے ساتھ ہزار بندشوں میں جکڑے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے سینکڑوں احکام ہیں۔سات سو سے بھی اوپر احکام ہیں اگر تم میں سے کوئی شخص دیدہ دانستہ ان میں سے ایک حکم کو بھی توڑتا ہے اور ایک حکم کے تعلق میں بھی حکم عدولی کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو مول لینے والا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے دل میں اپنے رب کا کوئی خوف نہیں ہے اور خشیت اللہ نہیں ہے۔عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو پس اے میرے پیارے بچو! اپنے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرو اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو۔کیونکہ جس شخص کے دل میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو جاتا ہے وہ سوائے عاجزانہ راہوں کے اور کوئی راہ اختیار نہیں کرسکتا۔اگر آج آپ اپنے دل میں حقیقی معنی میں اپنے اللہ کا خوف پیدا کریں اور خشیت اللہ آپ کے دلوں میں قائم ہو جائے تو پھر آپ کے لئے عاجزانہ راہوں کا اختیار کرنا آسان ہو جائے گا۔اور پھر آپ پر اللہ تعالیٰ کے اتنے فضل اور اتنی رحمتیں نازل ہوں گی۔کہ آپ کی نسلیں بھی ان کو شمار نہیں کر سکیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل جماعت احمد یہ ہر آن اور ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے پیار کے جلوے دیکھ رہی ہے اور ایک مومن دل ایک خوف رکھنے والا دل جب بھی اللہ تعالیٰ کے پیار کا جلوہ دیکھتا ہے تو اس کا سر اپنے رب کے حضور اور بھی جھک جاتا ہے کیونکہ اس کو یہ معلوم ہے کہ میرا یہی مقام ہے۔نیستی کا بے مائیگی کا اور اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ میرے رب کا کیا مقام ہے۔علو اور عظمت اور جلال کا۔وہ حیران ہوتا ہے کہ میرے جیسے نالائق پر اللہ