مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 570
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء 570 جونئی زندگی پاتا ہے اس کے متعلق یہ اعلان ہوا جو بڑاز بر دست وانتم الاعلون ان کنتم مومنین آل عمران آیت : ۱۴۰) ہر شعبہ زندگی میں (اچھی طرح سنیں) ہر شعبہ زندگی میں بالا دستی تمہاری ہوگی اگر تمہارا زنده تعلق زنده خدا سے ہوگا۔ہر شعبہ زندگی میں بالا دستی تمہاری ہوگی۔ایک شرط ہے ان کنتم مومنین ایمان کے تقاضوں کو پورے کرتے چلے جاؤ اور ہر شعبہ زندگی میں بالا دستی کو حاصل کرتے چلے جاؤ۔حضرت اقدس فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ نے اس گروہ کو اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور اپنی قدرت دکھانے کے لئے پیدا کرنا اور پھر ترقی دینا چاہا ہے تا دنیا میں محبت الہی اور تو بہ نصوح اور پاکیزگی اور حقیقی نیکی اور امن اور صلاحیت اور بنی نوع کی ہمدردی کو پھیلا دے۔سو یہ گروہ اس کا ایک خالص گروہ ہوگا اور وہ انہیں آپ اپنی روح سے قوت دے گا اور انہیں گندی زیست سے صاف کرے گا اور ان کی زندگی میں ایک پاک تبدیلی بخشے گا۔(اشتہار ۴ مارچ ۱۸۸۹ء) مغربی اقوام کو ہم شکست نہیں دے سکتے۔جب تک صحت کے میدان میں ہم انہیں شکست نہ دیں۔یعنی صحت کے لحاظ سے جسمانی صحت کے لحاظ سے ہم ان سے آگے نکلنے والے ہوں۔زیادہ جانفشانی سے کام کرنے والے ہوں۔زیادہ ہمت رکھنے والے ہوں عزم پختہ رکھنے والے ہوں۔تھکنے والے نہ ہوں جیسا کہ میں نے بتایا لڑائیوں میں صحابہ نے اور تابعین نے یہ ثابت کیا۔مغربی اقوام و دیگر غیر مسلم اقوام کو جب تک ہم علم کے میدان میں شکست نہ دیں گئے شکست نہیں دے سکتے۔اتنا آگے نکل گئے ایک حصہ علم جو روحانی اخلاقی علم ہے ان میں نہیں۔یہ درست ہے لیکن جو دوسرے علوم ہیں ان میں تو وہ آگے نکل گئے اور جیسا کہ میں نے بتایا وہ بھی صفات باری تعالیٰ کے جلوے ہیں جن کا علم انہوں نے حاصل کیا۔تو جب تک علم کے میدان میں ان اقوام کو شکست نہیں دیں گے۔اسلام غالب نہیں آئے گا اور جب تک اخلاقی اعجاز دکھا کر اخلاق کے میدان میں انہیں شکست نہیں دیں گے اسلام ان خطہ ہائے ارض میں غالب نہیں آئے گا۔اور جب تک نشان اور معجزہ اور قبولیت دعا کے نتیجہ میں انہیں باور نہیں کرا دیتے کہ روحانیت ہے اور اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق پیدا کیا جاسکتا ہے اسلام کو غالب نہیں کر سکتے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سوٹے نے فرعون کی فرعونیت کے اثر دہا کا سر کچلا۔اس وقت جماعت احمدیہ کی عاجزی کی پتلی سی کمزور چھڑی کے ساتھ خدا تعالی یہ معجزہ دکھانا چاہتا ہے کہ ان تمام طاقتور قوموں کا سر کچلا جائے اور ان کا غرور توڑ دیا جائے اور ان کا تکبر مٹی میں ملا دیا جائے۔(بحوالہ روزنامه الفضل ربوہ۔جلسہ سالانہ نمبر ۱۹۸۱ء)