مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 557 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 557

557 فرموده ۱۹۸۱ء دو مشعل راه جلد د دد دوم کہ وہ گاؤں گاؤں۔قریہ قریہ جائے۔جاتے رہ کر۔ایک دفعہ نہیں جاتے رہ کر۔ان کو تیار کریں کہ کوئی گاؤں یا قصبہ جو ہے یا شہر جو ہے وہ محروم نہ رہے نہ پنجاب میں، نہ سرحد میں نہ بلوچستان میں نہ سندھ میں اور اس کے متعلق مجھے پہلی رپورٹ امرائے اضلاع اور مربیان کی طرف سے عید سے دو دن پہلے اگر مل جائے تو عید کی خوشیوں میں شامل یہ خوشی بھی میرے لئے اور آپ کے لئے ہو جائے گی۔اور دوسری رپورٹ پندرہ تاریخ کو یعنی جو اجتماع ہے خدام الاحمدیہ کا غالبا ۲۳ کو ہے تو اس سے پہلے جمعہ کو سات دن پہلے وہ رپورٹ ملے کہ ہم تیار ہیں۔ہر جگہ سے ہر ضلع سے ہر گاؤں ہر قریہ ہر قصبہ ہر شہر اس ضلع کا جو ہے اس کے نمائندے آئیں گے۔یہ انتظام جو ہے جس کے متعلق میں بات کر رہا ہوں اس کے بھی آگے دو حصے ہو گئے۔ایک کے متعلق میں نے پہلے بات کی تھی جو یہاں کے رہنے والے ہیں۔ایک کے متعلق میں اب بات کر رہا ہوں کہ اس وقت نوع انسانی ایک خطر ناک ایک ہولناک ہلاکت کی طرف حرکت کر رہی ہے۔اس قسم کی خطرناک حرکت ہے جو انسان کو تباہ کرنے والی ہے اور عقل میں نہیں ان کے آرہی بات کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔اس واسطے تمام احمدی یہ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انسان کو سمجھ اور فراست عطا کرے کہ اپنے ہی ہاتھ سے اپنی ہلاکت کے سامان نہ کرے۔اور خدا تعالیٰ ان کو اس عظیم ہلاکت سے جس کے متعلق پیشگوئیاں بھی ہیں بچالے۔ہرانذاری پیشگوئی دعا اور صدقہ کے ساتھ مل جاتی ہے۔ان کو تو سمجھ نہیں، انہوں نے اپنے لئے دعا نہیں کرنی۔مجھے اور آپ کو تو سمجھ ہے۔ہمیں ان کے لئے دعا کرنی چاہیئے اور صدقہ دینا چاہیئے اجتماعات پر صدقہ دینا چاہیئے نوع انسانی کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اپنی طاقت کے مطابق ہم صدقہ دیں گے اجتماعات کے موقع پر لجنہ اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ یہ تین انتظامات ۲۱/۲۱ بکروں کی قربانی نوع انسان کو ہلاکت سے بچانے کے لئے ان اجتماعات کے موقع پر دیں گے انشاء اللہ اللہ تعالیٰ فضل کرے انسان پر کہ وہ بہکا ہوا انسان اندھیروں میں بھٹکنے والا انسان اُس روشنی میں واپس آ جائے جو محمد رسول اللہ نے نوع انسانی کی بھلائی اور ترقیات کے لئے آسمانوں سے لے کر آئے ہیں۔ہر بچہ میٹرک تک پڑھ جائے اس کی ذمہ داری امرائے اضلاع پر ہے تنظیم انصار اللہ پر ہے تنظیم خدام الاحمدیہ پر ہے ، جماعت پر ہے ضرور کوشش کریں کہ ہر احمدی بچہ کم از کم میٹرک تک پڑھ جائے دس سال کے اندر اندر اور پھر وہ بچے جب دسویں پاس کریں اور یہ پتہ لگے ہمیں کہ بعض بڑے ذہین ہیں تو ان کے آگے پڑھانے کا جماعت ذمہ لے وہ انتظام کرے۔تا کہ خدا تعالیٰ نے جو اتنا بڑا ہم پر احسان کیا کہ ہم غریبوں کے گھروں میں ذہین بچے پیدا کر دیے اور ذہانت سے ہماری جھولیاں بھر دیں ہم ان سے بے اعتنائی کر کے ناشکرے نہ بننے والے ہوں۔کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے شکر گزار بندوں سے پیار کرتا اور وہ جو شکر نہیں کرتے ، غصے کی نگاہ ان پر ڈالتا ہے۔