مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 523
523 فرموده ۱۹۷۹ء د و مشعل راه جلد دوم دد بھی دیکھا، ذلیل بھی کیا، کم تنخوا میں دے کے ان سے کام بھی لیا اور بڑا لمبا عرصہ کام لیا۔کوئی سو سال دوسو سال دنیا کے بعض بچوں پر بعض قوموں کے بچوں پر، بعض علاقوں کے بچوں پر یہ واقع بھی گزرا۔مگر تم احمدی بچے ہو اور تم وہ بچے نہیں ہو۔تو خدا کا شکر کرو تم ان بچوں میں شامل نہیں ہو۔پھر بعض بچے ایسے ہیں جن کو پڑھایا جاتا ہے اور ان کی پڑھائی میں ان کے نصاب میں یہ بھی حصہ شامل ہے کہ خدا نہیں ہے۔کورس کا یہ حصہ ہوتا ہے کہ اللہ سے دور کر دینا ہے دماغ کو عجیب لغو باتیں کر کے زہر بھرتے ہیں بچوں کے دماغوں میں۔حالانکہ ہم جانتے ہیں اور ہمارے بچے بھی جانتے ہیں کہ اللہ ہے اور اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔۱۹۷۴ء میں جب تکلیف میں تھی جماعت۔اور روزانہ قریباً ، گھنٹے مختلف جماعتوں کے جو دوست آتے تھے ان سے میں ملتا تھا ان کی تکلیف سنتا تھا میں ان کو تسلی دلاتا تھا، چہروں کی جوگھبراہٹیں ہیں کوشش کرتا تھا کہ وہ دور ہو جائیں اور وہ مسکرانے لگ جائیں۔اس میں ایک بات یہ بھی میں ان کو کہتا تھا کہ بچے بھی ساتھ آجاتے تھے۔تمہاری طرح کے چھوٹے چھوٹے سے۔میں کہتا تھا بچو! بتاؤ تم میں سے کسی کو سچی خواب آئی؟ تو بہت سارے بچے کھڑے ہو جاتے تھے اور کہتے تھے ہمیں آئی۔بچے کو خدا تعالیٰ بچے کی زبان میں بات بتاتا ہے۔ایک بچے کو آئن سٹائن کی تھیوری یا ڈاکٹر سلام نے جس نئی تحقیق پر نوبل پرائز لیا ہے وہ تو خدا نہیں بتائے گا جس کا سر پیر ہی نہ بچے کو پتہ لگے۔بچے سے تو خدا کا پیار یہ ہے کہ ایسی بات کرے جو اسے سمجھ آ جائے۔مثلاً ایک بچہ کھڑا ہوتا تھا اور کہتا تھا کہ ساڈی مہیں نے بچہ دیناں کی اور میں خواب وچ ویکھیا کہ کٹی ہوئی ہے اب یہ بچے کی زبان ہے۔اب جو بچہ بھینس کے پیٹ میں ہے اس کے متعلق کسی کو یہ پتہ نہیں کہ وہ کٹا ہے یا کٹی ہے۔صرف خدا کو پتہ ہے اور اس کے خواب کے مطابق کٹا یا کٹی کا ہو جانا بتاتا ہے کہ خواب بتانے والی ذات علام الغیوب ہے جسے پتہ ہے یعنی بھینس کا بچہ جب پیٹ کے اندھیروں میں تھا اس وقت خدا تعالیٰ کی روشنی سے تو وہ باہر نہیں تھا نا۔خدا کو پتہ تھا اور خدا نے ایک احمدی بچے سے اس طرح پیار کیا۔یہ بتانے کیلئے کہ میں اس جماعت سے بہت پیار کرنے والا ہوں، تیاری کرو میرے پیار کو حاصل کرنے کیلئے۔لیکن جو میں اب بتا رہا ہوں وہ ہے اس سے الٹ بات کہ سکولوں میں یہ کوشش کی جاتی ہے ( اس موقعہ پر بجلی کی روبند ہوگئی تو حضور نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے بچوں کو بتایا یہ سبز چائے کا قہوہ ہے جس کے اندر کوئی مٹھاس نہیں صرف گرمی ہے اور اگر تم میں سے کسی کے منہ میں ڈالی جائے تو کہو گے او ہوں یہ کیا ہے کوئی مزہ ہی نہیں۔مگر میرے لئے مفید ہے، گلے کوگرم رکھتی ہے۔اس لئے میں نے ایک گھونٹ پی لیا ہے۔ہم میں سے بہتوں کو عادت ہے ختی برداشت کرنے کی۔یہ تو کوئی چیز ہی نہیں پھیکا۔کسیلا قہوہ۔میں کونین کی گولی منہ میں ڈال کے اچھی طرح چبا کے کھا جاتا ہوں اور ایک دن میں نے ایک دوست کو کہا تم بھی کھاؤ گے۔کہتا ہاں میں بھی کھاؤں گا۔میں نے کہا اچھا دونوں کھاتے ہیں میں نے بھی منہ میں ڈالی اور اس نے بھی ڈالی اس کی ساری رگیں پھول گئیں۔دو دن تک وہ ہنستا تھا تو لوگ سمجھتے تھے رورہا ہے لیکن مجھ پر کچھ اثر نہ ہوا۔بڑی کڑواہٹیں برداشت کی ہیں تمہارے لئے بھی۔میں خدام الاحمدیہ کا صدر بھی رہا ہوں بڑا لمبا عرصہ۔تمہارے لئے