مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 518
مشعل راه جلد دوم شرک معاف نہ کرنے کی حکمت اور مفہوم فرموده ۱۹۷۹ء 518 قرآن کریم کی رُو سے شرک کا گناہ معاف نہیں کیا جاتا۔پچھلے ایک خطبے میں بھی میں نے کہا تھا کہ قرآن کریم نے کہا ہے شرک کا گناہ معاف نہیں ہوتا۔باقی سارے گناہ میں معاف کر دوں گا۔شرک کو معاف نہیں کروں گا۔تو جو مشرک ہے کیا اس کو خدا تعالیٰ کی رحمت سے اللہ تعالیٰ نے ( قرآن کریم کی تعلیم میں ) کلی طور پر محروم کر دیا ہے؟ یہ تو رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ میں جس رحمت خداوندی کا اعلان کیا گیا ہے بظاہر اس کے خلاف ہے۔میرے ذہن میں یہ تھا کہ میں بات سمجھا نہیں یہ نہیں ہو سکتی اسلامی تعلیم۔تو پھر میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ کہنا کہ میں شرک کے گناہ کو معاف نہیں کروں گا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں شرک کے گناہ کی جو سزا ہے اس میں کمی نہیں کروں گا۔پس مشرک پر خدا تعالیٰ کی رحمت اس شکل میں نازل نہیں ہوتی کہ کلی طور پر اس کو خدا معاف کر دے۔لیکن اس شکل میں ضرور نازل ہوتی ہے کہ خدا کہتا ہے مثلاً سوا کا ئیاں سزا ہے تمہاری تو پچاس میں معاف کر دیتا ہوں کئی معاف نہیں کی۔وہ بھی رحمت کا ایک جلوہ ہے کہ اگر پچاس ہزار سال اس نے دوزخ میں جلنا تھا تو اس کو کہا کہ تمہیں پچاس سال کے بعد جہنم سے نکال لوں گا۔معاف تو نہیں کیا دوزخ کی سزا اس کو مل گئی لیکن پوری بھی نہیں ملی رحمت نے جوش مارا اور اس کی سزا میں کمی کر دی۔سزا معاف کرنا اور چیز ہے سزا میں کمی کر دینا دوسری چیز ہے۔تو یہ جو روحانی پہلو ہے ہر انسان سے تعلق رکھتا ہے ان سے بھی جنہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو مٹادیں گے ان کے متعلق بھی خدا نے کہا کوشش کرو کہ وَمَ خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ یہ لوگ بھی میرے بند بن جائیں۔ان کو خدا کا بندہ بنانے کیلئے یوگوسلاویہ کے دہر یہ کمیونسٹ نے تو کوشش نہیں کرنی۔ان کو خدا کا بندہ بنانے کیلئے جماعت احمدیہ نے کوشش کرنی ہے اور کر رہے ہیں۔مثلاً ڈنمارک میں عبدالسلام میڈیسن جو آج ان کا نام ہے۔بڑے سخت عالی قسم کے کمیونسٹ تھے تابط شر (۱) یعنی اپنی پتلون میں چھرارکھا کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ عالی کے تھے تابدار ( رکھا کرتےتھےاور پھر نے فضل کیا۔بڑی رحمت ان پر نازل ہوئی اور جماعت احمدیہ کو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق ملی کہ اسلام کا حسن ان کے سامنے اس طرح پیش کریں کہ وہ اس کا گرویدہ ہو جائے۔پھر قرآن سے پیار پیدا ہوا۔پھرانہوں نے قرآن سیکھا سمجھا۔اس کا مطالعہ کیا اور اپنی زبان میں اس کا ترجمہ کر دیا۔جو بڑا مقبول ہوا ان کے ملک میں تو یہ تبدیلی ذہنی، روحانی ان میں پیدا ہوئی۔روحانی طور پر کہ ایک خدا کے منکر خدا کے دشمن خدا کے نام کو زمین سے مٹانے کیلئے تیار نیز آسمانوں سے بھی۔خدا کا عاشق بن گیا اور اب اس سے کوئی بات کرے اسلام کے متعلق تمہیں کیا پھل ملے اسلام لانے کے۔تو وہ بڑے سکون اور بڑے وجد کے ساتھ کہتا ہے کہ مجھے کچی خوا ہمیں آنے لگ (۱) مشہور عرب شاعر اور بہا در جنگجو اس کا نام ”ثابت بن جابر بن سفیان تھا۔اس کی بہادری ، شجاعت اور جنگی کارناموں کے قصے معروف ہیں۔ہ ہمیشہ تلوار یا چھرا اپنی بغل میں دبائے رکھتا ، جس کی بناء پر اس کو تا با شر‘ کا لقب دیا گیا۔( ناقل)