مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 504

فرموده ۱۹۷۹ء د دمشعل راه راه جلد دوم گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اس نبی کے ذریعہ سے پائی۔زندہ خدا کی شناخت ہمیں اس کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اس وقت تک ہم منور رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑے ہیں“۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۱۵ - ۱۱۲ بحوالہ کتاب - مرزا غلام احمد صفحه ۴۰۰-۴۰۱) 504 یہ جو میں نے چھوٹا سا اقتباس پڑھا اس میں جو باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہیں :- نمبر ایک نبی اکرم و توحید حقیقی کو قائم کرنے والے ہیں۔(۲) نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ سے انتہائی درجہ پر محبت کرنے والے ہیں۔(۳) نبی اکرم انتہائی درجہ پر بنی نوع کے ہمدرد اور غم خوار ہیں (۴) اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو تمام انبیاء پر فضیلت بخشی۔اور پانچویں یہ کہ انتہائی محبت آپ نے اپنے رب کریم سے کی اور انتہائی ہمدردی اور غم خواری آپ نے بنی نوع سے کی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تمام انبیاء پر آپ کو فضیلت بخشی اور دوسری طرف آپ کو بنی نوع انسان کے لئے حقیقی معنی میں اور یقینی طور پر حسن اعظم بنا کر بھیجا۔اتنا احسان ہے محمد اللہ کا بنی نوع انسانی پر کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ آپ سر چشمہ ہیں ہر ایک فیض کا۔کوئی فیض بنی نوع انسان کے اندر بعثت نبوی ﷺ کے بعد نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس فیض کا تعلق محمد ﷺ کے سرچشمہ سے نہ ہو۔ہر فیض ہر انسان نے (فیض چھوٹا ہو یا بڑا) محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ہی حاصل کرنا ہے۔اور وہ شخص جو یہ اقرار نہ کرے اور کہے کہ میں خدا تعالی کے فیض کو محمد اللہ سے تعلق پیدا کئے بغیر حاصل کر سکتا ہوں۔اور وہ شخص جو یہ نہ کہے اور یہ اقرار نہ کرے کہ مجھے فیض باری کے حصول کے لئے محمد یا ہے کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔یاوہ شخص جو یہ کہے کہ میں نے جو فیض اور فضیلت حاصل کی ہے وہ محمد علی کے بغیر حاصل کی ہے وہ ذریت شیطان ہے۔نمبر ۶۔ہر ایک فضیلت کی کنجی محمد ان کو دی گئی ہے جب تک آپ تالا نہ کھولیں کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی۔ہر ایک معرفت کا خزانہ محمد ﷺ کواللہ تعالی کی طرف سے عطا ہو چکا ہے۔جو شخص محمد اللہ کے طفیل صلى الله اور آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی معرفت میں آگے بڑھنے کی سعی نہیں کرتا۔وہ محروم از لی ہے نمبرے۔ہم ہیں کیا ؟ ہم لاشے محض ہیں۔ہم کا فرنعمت ہوں گے اور ناشکرے ہوں گے اگر یہ نہ کہیں کہ زندہ خدا کی شناخت اس کامل نبی کے ذریعہ ہم نے پائی۔اور یہ محمد ﷺ کا ہی فیضان ہے کہ آپ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں محمد ﷺ کی اتباع کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اپنے عاجز بندوں سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس سے بڑی نعمت اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔