مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 485
485 فرموده ۱۹۷۹ء دد د و مشعل راه جلد دوم سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے خدام الاحمدیہ مرکز بیدر بوہ کے ۳۴ ویں سالانہ اجتماع سے مورخہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو جو اختتامی خطاب فرمایا تھا اس کا مکمل متن درج ذیل ہے۔حضور نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- احمدی مسلمان کے عقائد آپ احمدیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں، خدام الاحمدیہ ہیں۔ہم سب احمدیت کی طرف منسوب ہوتے ہیں احمدی ہیں۔حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے ہمارا نام احمدی مسلمان رکھا ہے۔۔ہم اسلامی عقائد رکھتے ہیں بعض لوگوں میں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں ان سے میرا تعلق نہیں۔اپنے عقائد سے میرا تعلق ہے۔عقائد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ بیان فرمایا ہے وہ گاہے گا ہے احباب جماعت کے سامنے آتا رہتا ہے۔اسی سلسلہ میں آج میں اپنے احمدیوں کے احمدیت کے عقائد کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میں کوشش کروں گا کہ جہاں تک ممکن ہو سادہ زبان استعمال کروں تا کہ وہ سب اطفال بھی جو اس اجتماع میں شامل ہیں۔اپنی عقل اور علم کے مطابق احمدیت کے عقائد کو سمجھ سکیں تاہم کچھ باتیں تو ایسی بھی ہوتی ہیں جو بچوں کی سمجھ سے بالا ہوتی ہیں حتی کہ بعض باتوں کو تو کئی خدام بھی نہیں سمجھ سکتے لیکن میں اپنی طرف سے آسان زبان میں آپ کو سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ہم احمدی مسلمان ہیں اور ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔وہ خدا جو واحد لاشریک ہے۔وہ ایک ہے اور اُس کا کوئی شریک نہیں وہ واحد ہے اپنی ذات میں بھی اور اپنی صفات میں بھی۔نہ اس کی ذات میں اس کا کوئی شریک ہے اور ان کی صفات میں اس کا کوئی شریک ہے۔وہ بے مثل و مانند ہے۔وہ یکتا ہے اور اس جیسا اور کوئی نہیں۔وہ اپنی ذات اور صفات میں منفرد ہے۔کوئی دوسرا اس کا مثل اور اس جیسا نہیں ہے۔وہ ہر قسم کے نقائص کمزوریوں اور رکوتاہیوں سے پاک ہے۔کوئی نقص اور کمزوری اُس کی طرف منسوب نہیں کی جاسکتی۔اسے کبھی اونگھ نہیں آتی کیونکہ اونگھنا بھی ایک کمزوری ہے مگر خدا تعالیٰ ہر کمزوری سے منزہ ہے۔وہ ایک لمحہ تو کیا لمحہ کے اربویں حصہ کے لئے بھی اپنی مخلوق سے بے خبر نہیں ہوتا۔اُسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند کی ضرورت ہے۔خدا تعالی خالق ہے۔دنیا کی ہر چیز نے اُس نے پیدا کی ہے اس لئے وہ ہر چیز کا مالک ہے۔وہ جی ہے اپنی ذات میں وہ زندہ ہے اور اس عالمین کی کوئی چیز اس کے سہارے کے بغیر زندہ نہیں۔دنیا کی کوئی چیز بھی جب تک خدا تعالیٰ جو الحی ہے اُسے زندگی عطا نہ کرے زندہ نہیں ہوسکتی اور نہ زندہ رہ سکتی ہے اور نہ اس کا وجود قائم رہ سکتا