مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 483
483 فرموده ۱۹۷۸ء دو د و مشعل راه جلد دوم وہ اکیلا تھا غیروں نے تو کیا اپنوں نے بھی اسے نہیں پہچانا مگر اس نے کہا خدا تعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔خدا کہتا ہے تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔دنیا نے مختلف پہلوؤں سے دنیا کے مختلف کنارے بنائے ہیں اور ان کے نام بھی رکھے ہوتے ہیں۔مثلاً انگلستان کے جنوب مغرب میں ایک چھوٹا سا کونہ ہے جہاں زمین تنگ ہوتے ہوتے ایک نقطہ سا بن کر رہ گئی ہے۔اس کو وہ انگریزی میں LAND'S END یعنی زمین کا کنارہ کہتے ہیں۔چنانچہ انگلستان میں آواز پہنچ گئی اور اب تو وہاں مسیح کی صلیبی موت سے نجات پر جو کا نفرنس ہوئی ہے اس سال جون کے شروع میں اس کا اتناز بر دست اثر ہوا کہ اس نے عیسائی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اب عیسائی دنیا میں یہ احساس دن بدن پیدا ہو رہا ہے کہ وہ اپنے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ان کی زندگی ناکام زندگی بن کر رہ گئی ہے اور یہ کہ وہ دن بدن ہلاکت کی طرف جارہے ہیں۔اب وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں دین اسلام سکھاؤ۔کون ان کو اسلام سکھائے۔ایک آدمی۔دس آدمی یا سو آدمی تو سارے یورپ کے ہر شہر میں جا کر اسلام نہیں سکھا سکتے۔تم جو میرے سامنے بیٹھے ہو تم میں سے آدمی نکلنے چاہئیں جو دین سیکھیں اور اس نیت سے سیکھیں کہ دنیا کے کونے کونے میں جائیں گے۔اسلام کی تبلیغ کریں گے۔توحید کی تبلیغ کریں گے۔اور محمد اللہ کے حسن واحسان کو دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔قرآن کریم کی حسین تعلیم دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔قرآن کریم کی تعلیم اتنی پیاری ہے کہ اس سے غیر مسلم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔۶۷ء کی بات ہے یورپ کے دورہ کے دوران میں لندن گیا۔وہاں ایک حصہ میں بہت سے احمدی بستے تھے انہوں نے کہا ہمارے پاس آئیں۔چنانچہ میں وہاں چلا گیا۔وہاں انہوں نے ایک لیکچر کا بھی پروگرام بنایا ہوا تھا۔اس میں غیر مسلم بھی آئے ہوئے تھے جن کا مختلف مذاہب سے تعلق تھا۔مجھے خیال آیا۔اچھا موقع ہے۔میں اسلام کا تعارف کرادیتا ہوں۔میں نے اس وقت مضمون ہی یہ چنا۔چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر کہا۔تم اسلام پر ایمان نہیں لاتے لیکن پھر بھی اسلام تمہارا خیال رکھتا ہے۔میں نے اس کے متعلق سات آٹھ مثالیں دیں۔میں نے کہا تم قرآن کو نہیں مانتے لیکن قرآن کہتا ہے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ تمہارے (غیر مسلموں کے ) جذبات کا بھی خیال رکھیں۔تم قرآن کریم کو نہیں مانتے لیکن قرآن کہتا ہے کہ جس طرح مسلمان پر افتراء نہیں کرنا اور جھوٹ نہیں بولنا اسی طرح غیر مسلم کے خلاف بھی جھوٹ نہیں بولنا۔تم قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے لیکن قرآن کریم کہتا ہے جس طرح مسلمان کا مال ناجائز طور پر نہیں کھانا اس طرح غیر مسلم کا مال بھی ناجائز طور پر نہیں کھا نا۔میں نے مختصر دو دو تین تین منٹ میں یہ باتیں بتا ئیں تو وہ میرے پیچھے پڑ گئے کہ ہمارے ہاں آکر ہماری عبادت گاہ میں بھی تقریر کریں لیکن چونکہ پہلے سے پروگرام بنا ہوا تھا اس لئے میرے پاس وقت نہیں تھا۔میں نے کہا مجبوری ہے بعد میں کسی وقت فرصت ملی تو تقریر کروں گا۔غرض قرآن کریم نے اتنا احسان کیا ہے بنی نوع انسان پر کہ شرک کے خلاف تو تعلیم دی۔خانہ کعبہ کے بتوں کو توڑا گیا۔لیکن تعلیم یہ دی کہ تم نے بتوں کو گالی نہیں دینی۔اب بہت تو پتھر ہے