مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 467 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 467

467 فرموده ۱۹۷۸ء دو مشعل راه جلد دوم میں جا کر دکھا دو گے؟ تو وہ عورت کہنے لگی کہ لولو ہم نے اپنا سارا سرمایہ ضائع کرنا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ تو تمہاری حالت ہے تم سچ بول ہی نہیں سکتے۔سچ کے ساتھ کچھ جھوٹ بھی ملاتے ہو تب بات کرتے ہو۔سچائی اور قولِ سدید کی تعلیم قرآن کریم نے ہمیں جو تعلیم دی ہے وہ صرف یہ نہیں کہ سچ بولنا ہے بلکہ اس کے ساتھ کہا کہ قول سدید کہنا ہے یعنی سچ بھی بڑا اعلیٰ قسم کا جس کے اندر کوئی ہیر پھیر اور چالا کی نہ ہو۔بعض سچ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جن میں بولنے والا چالا کی بھی کر جاتا ہے لیکن اسلام یہ نہیں کہتا بلکہ وہ قول سدید کی تعلیم دیتا ہے۔اور ہم نے سوچا آپ بھی سوچیں کہ اس کے بغیر دنیا میں امن قائم ہی نہیں ہو سکتا۔اگر ہر شخص دوسرے پر اعتبار ہی نہ کرے تو امن کی فضا کیسے پیدا ہوگی۔پھر تو بدظنی کی فضا ہوگی کہ میرے ساتھ بات کرتے ہوئے کوئی چالا کی کر گیا ہوگا۔لیکن اگر طرہ امتیاز یہ ہو کہ یہ قول سدید کہنے والی قوم ہے تو پھر ہر شخص کو پتہ ہوگا کہ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں۔امن اور آشتی کی فضا ہوائی باتیں کرنے سے نہیں پیدا ہوتی۔اسلام کا نام اللہ تعالیٰ نے اسلام رکھا ہے۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لے کر آئے اللہ تعالیٰ نے اس مذہب کا نام اسلام رکھا اور اس کے ماننے والوں کا نام مسلم رکھا اور یہ کوئی منطق یا فلسفہ یا افسانہ یا لطیفہ تو نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم نے عملاً ایسی فضا پیدا کی کہ یہ امن کا مذہب بن گیا، یہ آشتی کا مذہب بن گیا، یہ صلح کا مذہب بن گیا، یہ اطمینان قلب کا مذہب بن گیا اور اپنی تعلیم کے لحاظ سے اس نے اس قسم کی فضا پیدا کی کہ کسی کو کسی سے کوئی خطرہ باقی نہیں رہنے دیا اور میں نے انہیں یہی کہا کہ اگر امن چاہتے ہوتو سچ بولو اور خالی سچ نہیں بلکہ قول سدید سے کام لو۔سیدھا سچ ہو جس کے اندر کوئی ہیر پھیر نہ ہو۔یہ جو میں نے کہا وہ لوگ Compromise کرتے ہیں یعنی سچ کے ساتھ جھوٹ کی اور قدرتی کھانوں کے ساتھ بناوٹی کھانوں کی ملاوٹ کرتے ہیں۔اب وہاں شور پڑ گیا ہے ایک دن میرے سامنے ٹی وی tv پر آ گیا کہ اس کھانے کی وجہ سے اتنی بیماریاں اور فوڈ پوائزنگ کے اتنے کیس ہونے لگ گئے ہیں۔فوڈ پوائزنگ ایک بڑی سخت قسم کی بیماری ہے جس میں زہریلے کھانے کے ساتھ جسم کے اندر زہر پیدا ہو جاتا ہے اور یہ سب موجودہ تہذیب کی ایجادات کے نتیجہ میں ہے۔دوائیں لے لیں ، ان میں سچ کے ساتھ جھوٹ۔سچ تو قانون قدرت ہے جب اس سے ادھر ادھر ہو جاؤ گے تو ضرور پھنس جاؤ گے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے افیم پیدا کی ہے اور اس کے بہت سے فوائد ہیں۔یہ ایک مرکب دوائی ہے خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے جو چیزیں پیدا ہوتی ہیں وہ مفردات نہیں ہوتیں بلکہ مرکب ہوتی ہیں اور افیم ایک بڑا ز بر دست مرکب ہے۔کئی سال ہوئے میں نے اس کے بارے کسی رسالے میں جو آخری مضمون پڑھا تھا اس کے مطابق ان کی سائنس اس وقت تک افیم کے ۳۴ اجزاء علیحدہ کر چکی تھی اور ابھی اور نکل رہے تھے۔پتہ نہیں اب ان کو ملا کر ۵۰،۴۰ یا ۷۰ ۸۰ ہو چکے ہوں گے۔خدا تعالیٰ نے تو ایک گن کہہ کر ان کو ملا دیا اور میں نے بہت غور کیا اس ترکیب کے اندر اللہ نے بڑا توازن پیدا