مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 44 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 44

دومشعل کل راه جلد دوم صلى الله فرمودہ ۱۹۶۷ء 44 تب جا کر وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی جنتوں میں داخل ہوئے تو اب کس ماں کا بیٹا ہوگا جو آپ سے زیادہ قوت قدسیہ کا دعویٰ کرے۔جس کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی رضا اور دوستی کے حصول کے لئے ہر انسان کو قربانی دینی پڑتی ہے اور اس طریق کے مطابق قربانی دینی پڑتی ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے وہ رسول کریم ﷺ کی سنت سے ثابت ہے لیکن اب مسلمان فرقوں میں بہت ساری نئی چیز میں داخل ہوگئی ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم یہ کرلو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی۔حالانکہ خدا تعالیٰ کی حمد اس کی تسبیح اور ذکر اور لاحول اور نماز اور روزہ اور زکوۃ اور حج وغیرہ سات سو یا اس سے زیادہ احکام جو قرآن کریم میں ہیں ان کی پابندی کے نتیجہ میں اور ان پر عمل کر کے ہی خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ان وظائف کے علاوہ جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں بعض اور وظائف بھی ہیں جو یاد کئے جانے چاہئیں کہ ان کی ضرورت زیادہ ہے اور ان کے نتیجہ میں ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں تو یہ ایک نئی شریعت کے مترادف ہے اور قرآن کریم کے بعد اور کوئی شریعت قیامت تک نہیں آ سکتی۔غرض قرآن کریم کی وہ تفسیر جو آج کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں پائی جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور وہ علوم جوان کتب میں پائے جاتے ہیں ہر احمدی کی جان اور اس کی روح ہیں اگر آپ ان کتب سے یا ان کتب میں بیان کئے گئے علوم سے ناواقف ہیں تو گو احمدیت تو پھیل کر رہے گی اور اس کو مٹانا مشکل ہوگا۔لیکن تم ایک ایسے مردہ جسم کی طرح ہو جاؤ گے جس میں جان نہیں ہوگی۔پس وہ بنیادی نصیحت جو میں اپنے بچوں کو اس وقت کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے پڑھنے کی عادت ڈالیں۔روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب یا آپ کے ملفوظات کا کوئی حصہ پڑھ لیا کریں۔ملفوظات سے اگر آپ شروع کریں تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ ان میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ عام فہم ہیں اور جن الفاظ میں انہیں اخبارات نے محفوظ کیا ہے وہ بھی آسان اور عام فہم ہیں ان میں مثلاً مختلف سوالات کے جوابات ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کئے گئے یا ان سوالات کا جواب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا ہے جب کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے کہ جو دوست باہر سے آئیں وہ قادیان سے جلد واپس نہ چلے جائیں بلکہ کچھ عرصہ یہاں رہیں، لیکن مجالس میں الہی علم کے مطابق انسان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے باتیں کرتا ہوں۔مثلاً ایک آدمی مجلس میں آتا ہے اور وہ حدیث کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتا تو اللہ تعالیٰ مجھے القاء کرتا ہے اور میں حدیث کی اہمیت بیان کر دیتا ہوں یا بعض ایسے آدمی آپ کی مجلس میں آ جاتے جو حدیث کو قرآن کریم پر ترجیح دینے والے ہوتے تو آپ مجلس میں اس موضوع پر کچھ فرما دیتے۔غرض بہتوں کو سوال کرنا ہی نہیں پڑتا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا تھا کہ جن عقائد اور کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہوتی یا جن مسائل کو بیان کرنے کی ضرورت ہوتی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کے متعلق کچھ بیان فرما