مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 455 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 455

455 فرمودہ ۱۹۷۷ء د و مشعل راه جلد دوم دد خصوصاً وہ کتابیں جو اسیران سے بڑی خوبصورت چھپی ہوئی آئی ہیں۔انہوں نے بڑی محنت سے ان روایات کو اکٹھا کیا ہے اور سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں ہر صدی پر مجدد آنے کی جو حدیث ہے وہ حدیث کی صرف دو تین کتابوں میں ہے مگر کسی حدیث کی کتاب میں مجھے کوئی ایسی حدیث نہیں ملی جس میں یہ کہا گیا ہو کہ مجدد کی علامت یہ ہے یا اس کے لئے یہ نشان ظاہر کیا جائے گا۔کسی ایک جگہ بھی نبی اکرم میں اللہ نے ایسا نہیں فرمایا اور نہ قرآن کریم میں اس کا ذکر آیا ہے۔میں نے جب اس حدیث پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں یہ ہے ہی نہیں کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آئے گا۔اس حدیث میں تو یہ ہے کہ ہر صدی کے سر پر من آئے گا۔یعنی ایسے نائب رسول آئیں گے جو تجدید دین کا کام کریں گے۔من کے معنی عربی لغت کے لحاظ سے ایک کے بھی ہیں دو کے بھی ہیں اور کثرت کے بھی ہیں پس اگر کثرت کے معنی لئے جائیں تو یہ معنی ہوں گے کہ ہر صدی کے سر پر کثرت سے ایسے لوگ موجود ہوں گے ( یعنی آنحضرت میہ کے خلفاء اور خیار وابرار ) جو دین اسلام کی خدمت میں لگے ہوں گے۔اس میں کسی ایک شخص واحد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔لا الله لسان العرب عربی لغت کی ایک مشہور کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ من کا لفظ تكون لـلـواحــد والاثنين والجمع كہ يہ لفظ واحد کے لئے بھی دو کے لئے بھی اور جمع کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور قرآن کریم کی لغت مفردات امام راغب میں ہے کہ يعبر به من الواحد والجمع والمذكر والمونث کہ اس سے واحد بھی مراد لی جاتی ہے اور جمع بھی مراد لی جاتی ہے۔مذکر بھی مراد لیا جاتا اور مونث بھی مراد لی جاتی ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ ہر صدی کے سر پر ایسے مرد بھی ہوں گے نیز خدا تعالیٰ کی درگاہ میں پہنچی ہوئی ایسی مستورات بھی ہوں گی۔یعنی مرد بھی خدمت دین میں لگے ہوئے ہوں گے اور مستورات بھی۔جب ہم قرآن عظیم کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ”من“ کا لفظ واحد بھی استعمال ہوا ہے اور جمع میں بھی استعمال ہوا ہے۔سورہ بقرہ میں بلى من اسلم وجهه لله و هو محسن فله اجره عند ربه - کہ جو شخص بھی اپنی توجہ اور اپنے سارے وجود کو خدا تعالیٰ کی طرف جھکا دے اور جو شرائط عبادات ہیں ان کو پوری طرح بجالائے تو فله اجره عند ربه تو ایسے ہر شخص کے لئے خدا کے نزدیک اجر ہے۔اور پھر فرمایا ولا خوف علیہم اور یہاں من کے متعلق جمع کا صیغہ آگیا کہ یہ لوگ نہ خوفزدہ ہوتے ہیں کسی چیز سے اور حزن کرتے ہیں۔سورہ یونس میں فرمايا ومنهم من يستمعون الیک۔یستمعون عربی زبان میں جمع کا صیغہ ہے۔اس جگہ من کے معنی بہت سے ایسے لوگوں کے ہیں جو بظاہر تیری طرف کان لگاتے ہیں اور سنتے ہیں لیکن وہ سن نہیں رہے ہوتے اور پھر سورہ تغابن میں ہے۔ومن يومن بالله و يعمل صالحا يكفّر عنه سياته و يدخله جنت تجرى من تحتها الانهر خلدين فيها۔کہ جو کوئی بھی اللہ پر ایمان لائے گا عمل صالح کرے اللہ تعالیٰ کے فضل اس پر نازل ہوں گے اور جنات میں ان کو داخل کیا جائے گا۔خلدين فيها ابدا۔اور وہ سارے کے سارے ان جنتوں میں رہنے والے ہوں گے۔من کا مفہوم خلدین میں بیان کر دیا۔