مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 432
د د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۶ء 432 کہ اسے کینسر ہو گیا تھا اور اب دیکھو یہ کس طرح اچھی ہو گئی ہے۔تو وہی ڈاکٹر جس نے یہ کہا تھا کہ اس کی زندگی کے چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں اس لئے اس کو ہسپتال سے گھر لے جاؤ ، اسے صحت مند دیکھ کر کہنے لگا کس احمق ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسے کینسر ہے۔اب وہ کیا کہتے کہ وہ احمق ڈاکٹر تم ہی تھے۔اس طرح کے ایک نہیں ، درجنوں نہیں ، بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں واقعات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے غیر معمولی طور پر شفاء عطا فرمائی۔اس سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ ہمارا خدا کتنی قدرتوں کا مالک ہے۔اصل حاکم تو وہی ہے۔باقی تو اس دنیا میں سارے پر دے ہیں۔لیکن جتنا جتنا کوئی اپنی عملی زندگی میں اپنے ماحول میں خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے نشان دیکھتا ہے اتنا زیادہ اس کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے۔میں بتایہ رہاہوں کہ یہ وہ اللہ ہے جسے اسلام نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور یہی وہ اللہ ہے جس کی مدد اور نصرت کے بغیر کوئی چیز ممکن نہیں ہے۔اور اس کی مدد اور نصرت کے لئے دعائیں کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ دعائیں اس کی مدد اور نصرت کو جذب کرتی ہیں جب دعا اپنی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے اور عاجزی اپنی حدود کو Touch کرنے لگتی ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کا اگر اور جب رحم جوش میں آجائے تو وہ اپنے عام قانون کے نیچے ایک خاص قانون چلاتا ہے اور یہ بھی اسی کا بنایا ہوا قانون ہے۔یہ نہیں کہ وہ اپنے قانون کو توڑتا ہے بلکہ ایک قانون کے نیچے ایک اور قانون کارفرما ہے۔وہ اس پس پردہ قانون کی تاروں کو کھینچتا اور اپنی قدرت کے معجزانہ تصرفات کو اپنے بندہ کے لئے ظاہر کرتا ہے۔پس یہ وہ خدا ہے جس کی طرف اسلام ہمیں بلاتا ہے اور یہی وہ اللہ ہے جس کے ساتھ تمہارا بھی اور میرا بھی ایک ذاتی اور زندہ تعلق قائم ہونا چاہیئے۔یہ ٹھیک ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے اپنی دینی اور عقلی استعدادوں کے لحاظ سے ابھی اس قابل نہیں کہ وہ اس کی گہرائیوں اور وسعتوں کو سمجھ سکیں لیکن اس راہ پر انہیں ضرور اسی کم سنی کے ایام میں گامزن ہو جانا چاہیئے تا کہ خدا کرے وہ خوش قسمت دن بھی ان پر طلوع کرے جب وہ واقعی میں اپنے زندہ خدا سے زندہ تعلق رکھنے والے بن جائیں۔آمین اب ہم دعا کے ساتھ خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی اس تربیتی کلاس کا افتتاح کرتے ہیں۔