مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 406 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 406

406 فرموده ۱۹۷۳ء دو مشعل راه جلد د دوم زیادہ عزیز چیزیں خدا کی راہ میں قربان کر دیں۔پس میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب صف اول میں شہید ہوں گے۔خدا کی راہ میں قربان ہوں گے تو ان کی جگہ لینے کے لئے دوسرں کو تیار ہونا چاہیئے۔تاکہ ہماری صفوں میں کوئی رخنہ پیدا نہ ہو۔اس وقت ہماری صفوں میں وسعت پیدا ہو رہی ہے۔جماعت احمدیہ کی حرکت میں تیزی پیدا ہو رہی ہے۔یہ حرکت متوازی نہیں ہے بلکہ ہر قدم وسعت پیدا کر رہا ہے۔اس میں پھیلاؤ ہے۔اس کی حرکت میں تیزی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری صف اول کی لمبائی ہر لمحہ بڑھتی چلی جارہی ہے اور ہمیں ہر لمحہ خدا کی راہ میں فدا ہونے والوں ضرورت ہے جو اسلام اور شیطان کی اس آخری جنگ میں کامیابی سے اور فاتحانہ رنگ میں حصہ لے سکیں۔اس لئے ہمارے بچوں کی ( جو تعداد میں بہر حال ہم سے زیادہ ہیں) تربیت ہونی چاہیئے تاکہ ہماری صفوں میں کسی وقت بھی کوئی رخنہ رونما نہ ہو۔عورتوں کی تعلیم و تربیت کی اہمیت علاوہ ازیں ہماری ماں اور ہماری بیوی ہماری بہن اور ہماری بچی کو بھی اس صف میں ہمارے پہلو بہ پہلو کھڑا ہونا چاہیئے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ ہماری عورت (جس کی تعداد ۵ فیصد ہے ) وہ تو مفلوج ہو کر چار پائی پر پڑی ہو اور ہم یہ گمان کریں کہ ہم اس جنگ کو جو اتنی اہم اور اتنی عظیم جنگ ہے اور بہت بڑی قربانیوں کا مطالبہ کرنے والی جنگ ہے اس کو ہم جیت لیں گے درآنحالیکہ ہم آدھے جسم کے ساتھ اس کے خلاف صف آراء ہوں یہ تو ناممکن ہے۔اس لئے اس روحانی جنگ میں ہمیں لاز ما عورتوں کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔لیکن سوال یہ ہے کہ بھی مفلوج کو بھی کسی نے بھرتی کیا ہے؟ ظاہر ہے فوج میں تو اس شخص کولیا جاتا ہے جو صحت مند ہو۔اس لئے اگر ہم نے اجتماعی طور پر ترقی کرنی ہے اور پوری جماعت کو آگے بڑھنا ہے تو عورتوں کی تعلیم وتربیت ضروری ہے۔میں نے عورتوں کے اجتماع میں کہا تھا کہ میں مردوں سے کہوں گا کہ وہ عورتوں کو سمجھائیں اور ان کی تربیت کریں۔اس لئے میں خدام سے بھی یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنی ماؤں کو سمجھائیں، وہ اپنی بہنوں کو سمجھائیں اور جو خدام شادی شدہ ہیں وہ اپنی بیویوں کو سمجھائیں۔یہ مسئلہ بڑا نازک ہے یاد رکھو ہم اپنی عورتوں کو عضو معطل بنا کر گھروں میں نہیں بٹھا سکتے۔اور یہ بھی یا درکھو کہ ہم ان کو شیطان کی بیٹی بنا کر شیطان کی گود میں بھی نہیں بھیج سکتے۔اسلام میں عورت کا مقام اور پردہ ہماری عورتوں کو میدان جہاد میں نکلنا بھی پڑے گا۔مگر شیطان کی آنکھ اس کے چہرے کو کبھی نہیں دیکھ سکے گی۔اس کو پردہ بھی کرنا پڑے گا اس کو مردوں کے شانہ بشانہ کام بھی کرنا ہو گا۔کیا صحابیات میدان جنگ میں نہیں جاتی تھیں؟ کیا آنحضرت ﷺ کی ازدواج مطہرات جنگ میں شامل نہیں ہوتی تھیں؟ وہ شامل ہوتی تھیں لیکن