مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 405 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 405

فرموده ۱۹۷۳ء 405 د مشعل راه جلد دوم عظیم واقعہ رونما ہو چکا ہے یعنی مہدی معہود مبعوث ہو گئے اور مسیح موعود آگئے، اسے کوئی معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہئے۔یہ تو وہ عظیم الشان واقعہ ہے جس کے ساتھ یہ اعلان ہوا تھا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کا محبوب اور فاتح جرنیل ہوگا۔وہ آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کو کہ تمام ادیان باطلہ مغلوب ہو جائیں گے پورا کرے گا۔اور اسلام کو ساری دنیا پر غالب کر دے گا۔اب یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔غرض بڑی اہم ہے یہ جنگ اور بڑا اہم ہے یہ جہاد نبی اکرم ﷺ سے پہلے دنیا میں کبھی اس قسم کا جہاد نہیں کیا گیا۔حضرت نبی اکرم ﷺ کے بعد چودہ سو سالہ زمانہ یونہی نہیں گزر گیا بلکہ اس میں آہستہ آہستہ تربیت کا سلسلہ جاری رہا۔دنیا میں کبھی کسی جگہ اور کبھی کسی جگہ یہ مہم جاری رہی۔کبھی افریقہ میں، کبھی یورپ میں اور کبھی ایشیا میں ذہن انسانی کی تربیت ہوتی رہی۔چنانچہ جب ذہن انسانی اور نسل انسانی اس بات کے قابل ہو گئی کہ وہ اسلام کی اس روحانی فوج میں بطور ایک فاتح سپاہی کے شامل ہو کر حصہ لے تو آنحضرت اللہ کے محبوب مہدی معہود کی بعثت ہوئی۔حضرت مہدی معہود علیہ السلام نے اپنے آقا و مولا حضرت محمدمصطفی ﷺ کی طرف سے اس جنگ کے خاتمہ اور آخری فتح کے سامان پیدا کرنے تھے گو یہ جنگ تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بعثت اور قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی لیکن ظاہر ہے جس وقت جنگ شروع ہوتی ہے۔اسی وقت فتح تو نہیں ہو سکتی۔عالمگیر جنگیں سالہا سال تک چلیں۔عرب میں قبائل کی چھوٹی چھوٹی جنگیں ۴۰، ۴۲۰ اور ۰ ۷۰۷ سال تک چلتی تھیں۔مگر یہ تو کوئی چھوٹی جنگ نہیں تھی۔یہ تو شیطان سے آخری جنگ تھی جس کی ابتداء آنحضرت ﷺ کی بعثت سے ہوئی۔آپ نے اس کے خلاف کامیاب آغاز فرمایا۔اور پھر چودہ سو سال کے ایک لمبے زمانہ پر پھیلی ہوئی کشمکش اور مجاہدہ کے بعد اس کی انتہاء اور کامیاب خاتمہ مہدی معہود کے زمانہ میں مقدر تھا۔اس کے بعد اسلام کے سوا د نیا میں کوئی مذہب باقی نہیں رہے گا اور قرآن کریم کے سوا کوئی کتاب نہیں رہے گی کیونکہ یہی ایک کامل مذہب اور کامل شریعت ہے۔بچوں کی تربیت پس یہ زمانہ ایسا نہیں جس میں ہم ذرا بھی غفلت برتیں اور ستی سے کام لیں۔اس لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سنبھال لیں ان کی بہترین رنگ میں تربیت کریں تا کہ جب ان کے کام کرنے کا وقت آئے تو وہ بھی اسلام کی اس جنگ میں شیطان کے خلاف ڈٹ جائیں اور اپنی صفوں میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہونے دیں۔کیونکہ جس طرح دنیوی جنگوں میں لوگ شہید ہو جاتے ہیں اسی طرح اس روحانی جنگ میں بھی شہید ہو جاتے ہیں۔دراصل شہید صرف وہی شخص نہیں ہوتا جس نے خدا کی راہ میں تلوار سے اپنی گردن کٹوادی ہو۔شہید وہ بھی ہوتا ہے اور زیادہ بڑا شہید ہوتا ہے جس نے خدا کی راہ میں زندگی وقف کر دی ہو اور اس کی زندگی کا ہرلمحہ خدا کی راہ میں قربان ہوتا رہا ہو۔اگر جان دینے کا سوال پیدا ہوتا تو یہ بھی اس کے لئے کوئی مشکل بات نہ تھی کیونکہ اس نے جان