مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 403
د دمشعل راه فرموده ۱۹۷۳ء 403 قل راه جلد دوم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان بن گئے۔علاوہ اور نشانوں کے یہ دو نشان بھی ثابت کر گئے کہ ہندوؤں اور عیسائیوں کے نمائندے اللہ کے قہر کے طمانچے کی زد میں ہیں۔وہ اسلام پر فتح حاصل نہیں کر سکتے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ اسلام کے خلاف ادیان باطلہ بالخصوص عیسائیت کی یلغار روک دی گئی، ان کا حملہ پسپا کر دیا گیا۔آج کی دنیا کو نظر آ رہا ہے۔اس شخص کو بھی نظر آ رہا ہے جو یہ سمجھتا تھا کہ افریقہ کا براعظم ان کی جیب میں ہے۔عیسائیت پسپا ہورہی ہے۔چنانچہ عیسائیوں کی بڑی بڑی بین الاقوامی کا نفرنسوں میں یہ رونا رویا جا رہا ہے ( ہمارے پاس ان کے حوالے موجود ہیں) کہ بڑا ظلم ہو گیا وہ افریقہ جسے ہم نے اپنی جیب میں سمجھ رکھا تھا وہاں کی یہ حالت ہے کہ ہم ایک عیسائی بناتے ہیں اور احمدیت اس کے مقابلے میں دس مسلمان بنا رہی ہے۔پس یہ وہ حملہ آور فوج تھی جسے یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ اسلام کو ملیا میٹ کر دے گی، وہ اسلام کا نام و نشان مٹا دے گی مگر وہ پسپا ہوئی اور دشمنوں کے منصوبے ناکام ہوئے۔لیکن ہمارا کام ختم نہیں ہوا کیونکہ مہدی معہود کے ذمہ دو کام تھے۔ایک اسلام کا دفاع کرنا ایسا دفاع کہ اس سے بہتر اور موثر دفاع ممکن نہ ہو۔اور دوسرے ادیان باطلہ پر جارحانہ حملہ کرنا ( روحانی طور پر حملہ کر نامراد ہے ڈنڈے کے زور سے نہیں ) یعنی روحانی طور پر ادیان باطلہ کے خلاف یلغار کرنا۔یہاں تک کہ ساری دنیا کے ادیان کے مقابلہ میں ساری دنیا کی دہریت کے مقابلہ میں اور ساری دنیا کے شرک کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جانا اور دشمنان اسلام کی افواج کو پسپا کر کے شاہراہ غلبہ اسلام پر آگے ہی آگے بڑھتے چلے جانا حتی کے اس کرہ ارض پر اسلام کے دشمنوں کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔اور اسلام دنیا کے کناروں تک پھیل جائے۔اور اسلام کا نور ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور دنیا کا ہر دل حضرت محمد مصطفی ﷺ کی حسین تعلیم کا گرویدہ ہو کر آپ کے قدموں میں آگرے۔اور خدائے واحد و یگانہ کی تو حید کا پرستار بن جائے اور ہمارے رب اور اس دنیا کے رب جو رب العالمین ہے، رحمان اور رحیم ہے اور مالک یوم الدین ہے۔جس کا مالکانہ تصرف اس عالمین کے ذرہ ذرہ میں کارفرما ہے۔اس کی توحید کا جھنڈا ہر سینہ میں گاڑ دیا جائے۔اور ہر ذہن نور اسلام سے منور ہو جائے۔ہر شخص نور فراست پانے والا اور خدا کے سامنے جھک کر خدا سے اس کے پیار اور اس کے رحمتوں کے حاصل کرنے والا بن جائے۔غرض یہ وہ عظیم الشان مہم ہے جو حضرت مہدی معہود علیہ السلام کی بعثت کیساتھ شروع ہو چکی ہے وہ بگل بجا دیا گیا۔جو گو یا ابتداء تھی۔غلبہ اسلام کی مہم کی اور اب غلبہ اسلام کی شاہراہ پر ہم ہر روز آگے ہی آگے بڑھتے چلے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اور اس کی رحمتوں سے اور اس بشارتوں کے عین مطابق وہ دن جلد طلوع ہونے والا ہے۔کہ جب دنیا میں سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب نہیں ہوگا۔اور سوائے محمد مصطفی میں اللہ کے دنیا کا اور کوئی محبوب باقی نہیں رہے گا۔خدائے واحد و یگانہ کی پرستش ہوگی۔اور اسی پر دل نثار ہوگا۔اور اسی منبع فیوض سے خدا کا بندہ ہر رحمت اور ہر فیض حاصل کرے گا۔