مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 36 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 36

فرموده ۱۹۶۶ء 36 د و مشعل راه جلد دوم کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔حضرت ابو یزید بسطامی ایک قصبہ میں پہنچے تو وہاں مشہور ہو گیا کہ ایک بڑے بزرگ آئے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہجوم لوگوں کا آپ کے گرد جمع ہو گیا۔انہوں نے کہا لوشیطان مجھے ریا کی طرف بلا رہا ہے۔اور میرے دماغ میں غلط خیال پیدا کرنا چاہتا ہے۔رمضان کا مہینہ تھا انہوں نے کھانا لیا اور مجمع میں کھانا شروع کر دیا لوگ آپ کو گالیاں دیتے ہوئے وہاں سے دوڑ گئے۔انہوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ تو بڑا نالائق انسان تھا۔پتہ نہیں یہ کیوں بزرگ مشہور ہو گیا۔اس نے رمضان میں بھی روزہ نہیں رکھا ہوا تھا۔حضرت ابو یزید بسطامی نے نفل پڑھے کہ خدایا تیرا بڑا احسان ہے کہ مجھے ان لوگوں سے نجات حاصل ہوئی ہے اور تیری عبادت کیلئے تنہائی میسر آئی ہے۔وہ لوگ جاہل تھے اور انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ جو بھی بزرگ ہوا سے رمضان میں ضرور روزہ رکھنا چاہیئے اور حضرت ابو یزید بسطامی نے بھی جان بوجھ کر مجمع میں کھانا کھا لیا تھا۔تا لوگ وہاں سے بھاگ جائیں۔حالانکہ ان کیلئے ایسا کرنا ضروری نہ تھا۔پھر بعض بزرگ ایسے بھی ہیں جن کا ہمیں پتہ نہیں لگتا۔ہم نہیں جانتے کہ کون بزرگ ہے اور کون نہیں ہے۔پتہ نہیں قیامت کے دن ان بزرگوں کی کون کون سی شکلیں آپ کو نظر آئیں گی۔جنہیں اب ہم ان کی زندگی میں حقارت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔لیکن قیامت کے دن پتہ لگے گا کہ ہم دنیا میں کیا کرتے رہے ہیں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔خودی کو مارو غرض خودی کو مارنا بھی اس وقت ہمارا ایک چیلنج ہے کیونکہ مسلمانوں کا ایک حصہ خودی کو زندہ رکھنے کے حق میں ہے۔مثلاً اقبال نے خودی کو زندہ ہی نہیں کیا بلکہ اسے انفلیٹ (Inflate) کیا ہے۔جس طرح غبارہ میں ہوا بھر کر اسے پھلا دیا جاتا ہے اسی طرح خودی اور نفس میں خود رائی ، خود روی خود نمائی کی اتنی ہوائیں بھریں کہ وہ اپنے اصل سائز سے بھی کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خودی کو مارو۔خودی کو مارو۔خودی کو مارو۔آپ نے اس بارہ میں اپنے منظوم کلام میں اردو میں بھی ، فارسی میں بھی اور عربی میں بھی اور پھر اپنی کتابوں میں بھی بار بار تا کید کی ہے اور جو فقرہ ابھی میں نے بولا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی رضا کو اس وقت تک حاصل نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم اپنے نفس پر ہزار موتیں وارد نہ کریں۔یہ بھی دراصل آپ کے ہی ایک شعر کے ایک مصرعہ کا ترجمہ ہے۔غرض انسان کو خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے ہزار موتیں اپنے پہ وارد کرنا پڑتی ہیں۔اس لئے کہ شیطان اسے چھوڑتا نہیں۔شیطان ہزار دفعہ آتا ہے اور خودی کے اندر پھونک بھرنی شروع کر دیتا ہے۔اور وہ انسان کو کہتا ہے کہ تو ایسا ہے، تو ایسا ہے۔اس لئے اسے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اے شیطان تو اپنے پھونک بھرنے کے آلات سمیت یہاں سے دفع ہو جا۔یہ ہم اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں علم ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں اور یہ نیستی کا مقام ہے۔جومحمد مصطفی ہے کے مقام عبودیت کا ظل ہے۔جب تک ہم اسے اختیار نہیں کریں گے۔اس وقت تک وہ دن جس کے متعلق ہم توقع رکھتے ہیں کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے