مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 369 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 369

دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۳ء 369 سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے مورخہ ۱۸ مئی ۱۹۷۳ء ایوان محمودر بوہ میں خدام الاحد یہ مرکزیہ کی سالانہ تربیتی کلاس کا افتتاح کرتے ہوئے جو خطاب فرمایا تھا۔اس کا مکمل متن درج کیا جاتا ہے۔( غیر مطبوعہ ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: - تربیتی کلاس میں نمائندگی کی اہمیت خدام الاحمدیہ کی یہ تربیتی کلاس جو مرکز میں ہر سال ہوتی ہے دو ہفتے تک رہے گی۔وہ خدام جو اس کلاس میں شمولیت کے لئے آئے ہیں مگر ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئے۔یعنی ان کے نام نہیں لکھے گئے اور پیچھے علیحدہ ان کو بٹھایا گیا ہے وہ ذرا کھڑے ہو جائیں تاکہ اندازہ ہو جائے کہ وہ کتنے ہیں (حضور کے ارشاد پر چند خدام کھڑے ہو گئے حضور نے فرمایا تشریف رکھیں)۔اس وقت تک جو احمدی بچے مرکز میں اس کلاس میں شمولیت کے لئے آچکے ہیں، وہ گذشتہ سال کے مقابلہ میں برابر برابر ہیں کچھ تھوڑا سا فرق ہے۔اگر مجالس کی شمولیت کی تعداد تسلی بخش ہو جائے تو پھر تسلی بخش زیادتی ہو جائے گی۔ویسے تو یہ نمائندہ کلاس ہے۔اس کے افراد کی تعداد کے مقابلہ میں جماعت کی شمولیت، مجالس کی شمولیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔تعلیم و تربیت کی اصل بنیاد قرآن کریم قرآن کریم ہی ہماری تعلیم و تربیت کی اصل بنیاد ہے۔باقی تمام علوم اس کی تفاصیل ہیں۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کتاب عظیم کے ذریعہ انسان کو عزت و شرف کے سامان مہیا کئے ہیں۔پھر بھی فهم عن ذكر هم معرضون“ یعنی طرفہ تماشہ یہ ہے کہ انسان جس کے شرف کے سامان مہیا کئے گئے ہیں اپنے شرف کے سامانوں سے اعراض کر رہا ہے۔پہلو تہی کر رہا ہے۔اس کامل اور حسین شریعت کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان شرف کے اس مقام کو حاصل کر سکے جس کے لئے اُسے پیدا کیا گیا ہے۔جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ الہام اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ الخير كله فی القرآن ہر قسم کی بھلائی قرآن کریم میں پائی جاتی ہے۔اور اس سے حاصل کی جاسکتی ہے۔اس میں دین کی بھلائی بھی ہے اور دنیا کی بھلائی بھی۔اس میں دنیا کی عزت و شرف کے سامان بھی ہیں اور روحانی طور پر عزت و شرف