مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 356

356 فرموده ۱۹۷۲ء دد د و مشعل راه جلد دوم یہ تو تھی چائے کے استعمال کی ابتداء جو چنگیز خان یا اس کے بیٹوں کے زمانہ میں ہوئی۔اس کے بعد لوگوں نے اس کے متعلق غور وفکر کیا اور بہت سے عملی تجربات کے بعد اس کے کئی خواص معلوم کئے۔مثلاً لوگوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ یہ صرف وبائی امراض کی روک تھام کیلئے ہی مفید نہیں بلکہ پینے کے لحاظ سے بھی بڑی اچھی چیز ہے۔کئی آدمیوں کو چست اور بیدار بھی رکھتی ہے۔چونکہ بعض کھانے پینے والی چیزوں کا اثر محدود ہوتا ہے اور ہر ایک پر یکساں نہیں ہوتا مثلاً ایک ایسی چیز ہے جس کو استعمال تو بہت سارے لوگ کرتے ہیں۔مگر ان میں چند ایک پر اس کا اثر ہوتا ہے باقی پر نہیں ہوتا۔اس لئے یہ عقل کا کام ہے کہ وہ تجربہ کر کے بتائے کہ اس چیز کا ورد عمل ہے استثنائی حیثیت رکھتا ہے یا اس کا سارے انسانوں پر اجتماعی رد عمل مترتب ہوتا ہے۔چنانچہ اس قسم کے عقلی تجربات کے نتیجہ میں جہاں چائے اور اس کے خواص کا علم بہت ترقی کر چکا ہے وہاں اس کے بعض نقائص بھی سامنے آچکے ہیں۔پس اگر ہم حقائق اشیاء پر غور کریں تو ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ ایک چکر ہے جس کی علم سے فکر کی طرف حرکت ہے اور فکر سے عقل کی طرف حرکت ہے اور عقل سے پھر علم کی طرف حرکت ہے۔یعنی عقلی تجربے کے وقت ظاہری حواس نے اگر کوئی نئی چیز دیکھی تو گویا عقل سے پھر علم کی طرف حرکت عمل میں آتی ہے اور پھر پہلے کی طرح غور و فکر اور عقلی تجربات کا چکر چل پڑتا ہے اور یہ چکر جس پر انسانی علوم کی ساری ترقی (جسمانی بھی اور روحانی بھی) کا دار ومدار ہے ہمیشہ چلتا چلا جاتا ہے۔روحانی علوم کی ارتقائی حرکت میں تھوڑا سا فرق ہے۔ہم اس میں بعض نام بدلتے ہیں ورنہ بنیا د سب کی ایک ہی ہے۔جہاں تک روحانیت کا سوال ہے اس میں ایمان اور عمل صالح کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔خود ایمان کے اندر ان تینوں چیزوں کو اکٹھا کر دیا گیا ہے جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔چونکہ ہمارے روحانی علماء نے ایمان کے یہ معنے کئے ہیں کہ زبان سے اقرار کرنا اس لئے اس کا مطلب اس کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ ظاہری حواس سے ہمیں ایمانیات کا پتہ لگا۔مثلاً ظاہری حواس جس میں ہمارے کان اور آنکھیں بھی شامل ہیں اور اسی طرح بعض دوسرے حواس بھی ہیں ان سے ہمیں پتہ لگا کہ اللہ ایک ہے قرآن کریم ایک آخری عظیم اور کامل شریعت ہے اور یہ علم کا پہلا درجہ ہے۔گویا اظہار ایمان کی ابتداء سننے یا پڑھنے سے ہوتی ہے۔پھر ہم نے اور بہت ساری چیزیں معلوم کیں ظاہری حواس سے۔مثلاً روحانی طور پر اللہ تعالی ، قرآن عظیم ، آنحضرت ﷺ کی زندگی اور آپ کی عظمت شان کے متعلق ایک ایک کر کے با تیں معلوم ہوئیں ان کو ہماری فکر نے اکٹھا کیا اور اس سے کچھ نتائج نکالے۔پس زبان سے ایمان کے اقرار کا تعلق علم سے ہے اور دل سے اقرار یا تصدیق کا تعلق فکر سے ہے۔انسانی فکر کے ذریعہ مختلف تاروں کو جوڑ کر نئے نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔مثلاً ایمان یعنی مذہبی علم نے ہمیں یہ بتایا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا مبارک وجود بڑی عظمت والا ہے۔اس نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ دعائیں کرنا، نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا وغیرہ ایمانیات کے مختلف اجزاء ہیں۔مگر فکر نے ایمان کی ان جزئیات کو اکٹھا کیا اور اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ صرف یہی نہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ہے ہیں ایمان کی ان جزئیات سے فائدہ اٹھا سکتے تھے بلکہ مذہبی دنیا میں ہر آدمی یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے اور اسے اخذ کرنا۔