مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 343
فرموده ۱۹۷۲ء 343 د و مشعل راه جلد دوم کہ تمہارے رب نے قرآن کریم میں کیا تعلیم نازل کی ہے تو آپ میں سے ہر ایک شخص زبان حال سے یہ کہے کہ میری زندگی دیکھ لو میں نے اسوۂ نبوی پر عمل کر کے جو کچھ خو کو بنایا وہ تمہارے لئے ہی نہیں ہر غیر کے لئے خیر ہی خیر ہے۔اس زندگی کے لئے آپ کو تیار ہونا چاہئے۔دنیا بڑی پر کشش ہے۔وہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے مگر سب کچھ دیکھنے کے بعد ( جو آپ دیکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ کی توفیق دے) دنیا کا پیار ہمارے اندر نہیں پیدا ہوسکتا۔دنیا کا پیار ٹھنڈا ہو گیا۔ایک ہی گرمی ہے جو ہمارے سینوں کو اورہ ہماری روح کوگر مائے ہوئے ہے اور وہ گرمی ہے خدا اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار کی گرمی اور ہمارے دل میں یہ تڑپ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اسوہ حسنہ تھا ہم اس کی تصویر بن جائیں۔کامل طور پر تو ہم نہیں بن سکتے۔ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو نہیں بن سکتے لیکن اپنی استعداد کے مطابق اس کی تصویر بن سکتے ہیں۔ہمارے نفس کے آئینہ میں اس کا عکس آ سکتا ہے۔آئینہ اگر خراب ہے اور دھندلا ہے تو اس میں شکل اچھی طرح نظر نہیں آ سکتی لیکن سوائے اس تصویر کے ہماری روح کے آئینہ میں کوئی اور تصویر نہیں آنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔کھڑے ہوں اور اپنے عہد کو دھرائیں۔تجدید عہد اور دعا کے بعد فرمایا:- مجھے یاد ہے انگلستان میں پڑھائی کے دوران دو سال کے بعد میں نے جرمنی کے بعض علاقوں میں دیکھا۔مجھے کوئی دبلا اور کمزور نظر نہیں آیا میں نے سوچا اور ان سے پوچھا کہ ان کو کھانے کو تو زیادہ نہیں ملا لیکن کھانا ہضم کرنے کے زیادہ سامان پیدا کئے گئے۔صبح چار بجے جگا دیا کرتے تھے نوجوانوں کو اور جس وقت ہمیں تہجد پڑھنی چاہئے اس وقت ان کی ایک خاص قسم کی پریڈ ہوتی ہے جو جرمنی میں بڑی مقبول تھی وہ کروایا کرتے تھے۔جس سے کھانا ہضم ہو جاتا تھا اور رات کو آٹھ بجے کے بعد کوئی گھر یہ جرات نہیں کرتا تھا کہ اونچی آواز سے ریڈیو بجائے کیونکہ اگر ہمسایہ شکایت کر دے تو اگلے دن وہ پکڑا جاتا تھا۔کہ تم آرام میں خلل ڈالتے ہو اور ہمارے یہاں تو کہاں سے کہاں پر لوگ اکٹھے ہوتے اور دوکانوں پر رات کے بارہ بجے تک جب تک ریڈیو بند نہیں ہوتا شور مچتا رہتا ہے اور اس جگہ کوئی ہمسایہ کا خیال نہیں رکھتا وہ غیر مسلم ہونے کے باوجود ہمسائے کا خیال رکھتے ہیں۔رات کو دیر تک نہ جا گنا سوائے ضرورت کے یہ بھی صحت کیلئے خصوصاً اس عمر میں بڑا ضروری ہے۔آپ میں سے بہت سے بعض تو بڑی عمر کے ہیں لیکن بہت سے ایسے ہیں جن کو آٹھ گھنٹے روزانہ اچھی نیند آنی چاہئے۔یہ بڑا ضروری ہے۔لیکن جن کو عادت نہیں مارنے کی پڑ جاتی ہے یا جن کے گھر میں ماں باپ کو عادت ہوتی ہے شہروں میں کہیں مارنے کی بیچارہ پانچ چھ سال کا بچہ اونگھ رہا ہوتا ہے ماں کے پاس ہوتا ہے بھی آدھا منٹ سوتا ہے پھر جاگ اٹھتا ہے۔کیونکہ ماں مشغول ہے باتیں کرنے میں باپ مشغول ہے گئیں مارنے میں یا ٹیلیوژن دیکھنے میں یا اور خرافات نکل آئی ہیں۔خرافات اس معنی میں کہ ان کا استعمال خرافت ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز ہمارے فائدہ کے لئے پیدا کی ہے۔لیکن ہمیں یہ اجازت دی ہے کہ ہر چیز کو اگر ہم برے بنا چاہیں تو غلط کاموں میں بھی استعمال