مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 327 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 327

دد مشعل را ل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 327 کہتے ہیں اور وہ جو پہاڑ کی چوٹی کی ڈھلوان کے ہر حصہ میں نظر آ رہا ہے تو ایک حصہ میں تو اس کی روشنی پہنچ رہی ہے لیکن دوسرے حصہ میں نہیں پہنچ رہی یہ غلط ہے۔ہماری عقل بھی اس کو تسلیم نہیں کرتی۔ہماری فطرت بھی اسے تسلیم نہیں کرتی۔جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ اتنا لمبا سلسلہ پہلے خلق کا انسان کو قبول کرنے کے سامان پیدا کرنے کا پھر انسان کی ایک لمبا عرصہ تک تربیت کر کے محمد للہ کے حسن اور احسان کے جلووں کو برداشت کرنے کا وہ جلوہ جو اپنے صحیح روپ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہیں کر سکے۔اور ان کی قوم نے ایک نہایت بھیانک دلیل خدا تعالیٰ کے سامنے دی (بھیانک اپنے لحاظ سے کیونکہ وہ بڑی گری ہوئی قوم تھی۔یہ دلیل خدا تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق میں کہ تم اور تمہاری قوم محمد ہے کے جلوے کی ایک جھلک بھی برداشت نہیں کر سکتی۔پس جس قوم نے اس جلوے کی جھلک کیا سارے جلوے کو برداشت کرنے کی قابلیت حاصل کرنی تھی وہ اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔جہاں تک پہلے پہنچے تھے۔پس یہ تو خاتم الانبیاء کے معنی نہیں ہو سکتے۔ہماری عقل کے لحاظ سے بھی نہیں ہو سکتے۔ہماری فطرت کے لحاظ سے بھی نہیں ہو سکتے۔صحیح معنی ہمارے نزدیک یہی ہیں کہ محمد ﷺ کا مقام ایسا ہے کہ جس مقام سے پہلوں نے بھی فیوض حاصل کئے اور بعد میں آنے والوں نے بھی صرف آپ سے فیوض حاصل کئے جو شخص آپ سے دور ہوا جو شخص آپ کے مقابلہ پر کھڑا ہوا۔جس شخص نے جتنا جتنا آپ کو رد کیا اتنا اتنا خود کو آپ کے فیوض کے حصول سے محروم کر دیا۔یہ ایک حقیقت ہے اور یہ ہمارا ایمان ہے۔یہ محمد ﷺ کا مقام ہے یہ وہ مقام ہے جس کے نتیجہ میں ہمارے دل میں اتنی شدید محبت محمد اللہ کے لئے پیدا ہوتی ہے کہ جس کا حد و حساب ہی کوئی نہیں۔ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی احمدی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کے بچوں کو قتل نہ کیا جائے لیکن محمد ﷺ کو برا بھلا کہا جائے۔اگر ہمارے اختیار میں ہوا گر دنیا کی اصلاح اس بات میں ممکن ہو تو ہم میں سے ہر ایک تیار ہے کہ ہمارے سارے بچوں کو قتل کر دیا جائے لیکن محمد ﷺ کی صداقت کو قبول کر لیا جائے۔آخر انتہائی قربانیاں اجتماعی طور پر جماعت کیوں دیتی ہے؟ میں جانتا ہوں کہ جماعت میں کچھ کمزور ایمان بھی ہیں۔اور بعض منافق بھی ہیں۔سب کچھ الہی سلسلوں کیساتھ لگا ہوا ہے۔منافق بھی یعنی کمزور ایمان والا بعض دفعہ مخلص بن جاتا ہے کمزور ایمان والوں کی تربیت ہوتی ہے اور وہ کہیں کے کہیں آگے نکل جاتے ہیں اور قابل رشک وجود بن جاتے ہیں۔اس واسطے کمزور کو دیکھ کر ان کا مستقبل دیکھ کر اور مستقبل کے متعلق اپنی امیدیں دیکھ کر ہمیں ان سے پیار پیدا ہوتا ہے کہ جو آج کمزور ہے وہ کل کہاں نکل جائے گا۔جن بچوں کو ہم نے (میں تو ان کو بچے ہی کہوں گا) یعنی خدام الاحمدیہ اور جوانی کے پہلے دور میں ہم ہر وقت گرفت میں رکھتے تھے کہ تمہارے اندروہ کمزوری ہے وقت آنے پر انہوں نے اپنے بھائیوں کے لئے اورمحمد علی کی صداقت کے لئے اپنی جانیں بھی قربان کر دیں۔اس واسطے کمزور کو ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں غصہ نہیں آتا۔یا ہمارے دل میں نفرت یا حقارت کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔بلکہ مستقبل کی امیدیں اور کامیاب تربیت کے