مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 312
312 فرموده ۱۹۷۲ء ، د و مشعل راه جلد دوم دد پس جو بنیادی تعلیم ہمیں دی گئی ہے۔اور جو ہمارا بنیادی عقیدہ ہے وہ تو حید باری تعالیٰ کا ہے۔اور اگر آپ سوچیں۔آپ کی عمر بھی کم ہے۔لیکن یہ عمر سوچ شروع کرنے کی ضرور ہے سوچ کی انتہاء تک پہنچنے کی یہ عمر نہیں ہے۔یہ میں مانتا ہوں۔لیکن میں یہ نہیں مانتا کہ کوئی کہے کہ ابھی آپ کو کسی مسئلے پر سوچنا ہی نہیں چاہیئے۔آپ کی یہ عمر سوچ شروع کر دینے کی ہے۔تو حقیقت یہی ہے کہ اللہ ہی اللہ ہے۔یہ ہے تو حید ہر دوسری چیز لا یعنی ہے۔اور وہ نیت اور لاشی محض۔اور خدا تعالیٰ سے ذاتی پیار یہ ہے کہ جس طرح ایک شخص ایک ایسے راستہ پر سے گذر رہا ہے جو باغ کے پاس سے گذرتا ہے۔جس میں بڑے اعلیٰ درجہ کے آم لگے ہوئے ہیں۔اور آم کا پھل تیار ہے۔اور بڑا خوبصورت ہے۔وہ اسے دیکھتا ہے تو اس حسن سے لذت اٹھاتا ہے یہ سمجھ کر کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک خلق ہے۔آپ میں سے بعض نے شاید غور کیا ہو کہ جب پھل اپنے جوبن پر ہوتا ہے تو اس کے اندر ایک حسن پیدا ہوتا ہے)۔لیکن وہ اس سے ذاتی فائدہ تو نہیں اٹھا سکتا۔اگر وہ اسے توڑے تو چور بن جائے گا۔اور اگر وہ اس آم میں خدا کی شان اور اس کی قدرت کے جلووں کو دیکھے گا تو خدا تعالیٰ کا پیارا بندہ بن جائے گا۔وہ چور نہیں بنے گا۔بلکہ اس کا پیارا بندہ بن جائے گا۔تو خدا تعالیٰ کی قدرت کے جلووں کے ساتھ جو پیار ہے یہ چھوٹی سی مثال میں نے دی ہے تاکہ بچے سمجھ جائیں۔یہ ذہنی پیار کا نتیجہ ہے یہ اس لئے نہیں کہ مجھے کوئی فائدہ پہنچے گا اس لئے کہ یہ ایک حقیقت ہے۔پیار کے ساتھ پیار کا نتیجہ ہے۔مجھے فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے در حقیقت اپنی جگہ قائم ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کا عرفان رکھنے والے اس کے بندے تو وہ ہیں کہ اگر انہیں یہ کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کے پیار کے نتیجہ میں انہیں دوزخ میں پھینکا جائے گا۔تو وہ خدا کے پیار کو نہیں چھوڑیں گے۔اس میں پڑنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔کیونکہ انہوں نے خدا کی اس حقیقت کو پالیا۔اس کے حسن و احسان کے جلووں کو دیکھ کر اس سے پرے وہ جاہی نہیں سکتے۔پھر آپ فرماتے ہیں دشمن تو حید اور دشمن اسلام کہتا ہے کہ جوخدا پر ایمان لائے اور جنہوں نے محمد ﷺ کا ساتھ دیا انہیں دشمن دکھ کیوں پہنچا تا ہے آخر ساری کی زندگی دنیا کی نظر میں دکھوں کی زندگی تھی۔آخر مدنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں بڑی سخت دشوار یاں تھیں۔اور جنگ احزاب کے موقعہ پر مسلمانوں کو اور خود سروردوعالم محمد ﷺ کو پیٹ پر پتھر باندھ کر زندگی کے دن گزارنے پڑے تھے۔اتنی تکلیف تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مخالف اسلام کہتا ہے کہ خدا کے بندوں کو اس دنیا میں دکھ کیوں پہنچتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔تمہاری نظر میں دکھ ہے تو ان سے جا کر پوچھو۔ان سے جا کر پوچھو گے تو وہ تو کہیں گے ہمیں تو بڑی لذت اور بڑا سرور آ رہا ہے۔جو کچھ بھی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے اس سے ہمیں تو سرور آ رہا ہے۔کیوں سرور آ رہا ہے اس لئے کہ جب دنیا انہیں دھت کارتی ہے اور جتنی شدت سے انہیں دھتکارتی ہے اتنا ہی اور اتنی ہی شدت سے وہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق یہ لکھا ہے کہ دن کے وقت کفر کے فتوے اور اس قسم کے دوسرے نعرے میرے کان میں پڑتے ہیں۔اور جب رات کے وقت میں تکیے پر اپنا سر رکھتا ہوں تو میرا پیارا خدا