مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 302 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 302

فرموده ۱۹۷۱ء 302 د و مشعل راه شعل راه جلد دوم انہوں نے اس وقت کی ہے جب قیصر و کسری کے تاج ان کے قدموں میں گرے۔کیونکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی تھی۔”خادم“ کا مقام پس خادم کا جو یہ مقام ہے کہ سر ہر وقت زمین پر سجدہ ریز رہے وہ خود ساختہ آقا کا مقام نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا بڑا ہی احسان ہے اس قوم پر اور اس نسل پر جس کو ”خادم“ کا مقام دیا اور خادم کا احساس دیا اور خدمت کا جذ بہ عطا کیا۔یہ مقام اللہ تعالیٰ نے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو دیا ہے۔یہ مقام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں خلیفہ وقت نے نوجوانانِ احمدیت کو دیا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی احسان ہے۔اس لئے تم حمد کے ترانے گاؤ اور اپنے سر کو اونچانہ کرو اور خدمت کے مقام کو بھول نہیں خواہ کوئی ہی کیوں نہ ہو آپ اس کی خدمت کیلئے پیدا کئے گئے ہیں۔آپ للناس ہیں آپ کو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں نے تمہیں انسانوں کی خدمت کیلئے پیدا کیا ہے اور ساتھ یہ بشارت بھی دی تھی کہ اگر تم اپنے اس مقام کو نہ بھولے تو تم خیر امت ہو گے۔دنیا میں کوئی ایسی امت پیدا نہیں ہوئی اور نہ آگے پیدا ہوگی کیونکہ اسلام میں خدمت کی جو تعلیم ہے اور پیار کی جو تعلیم ہے اور اخوت کی جو تعلیم ہے وہ ہمہ گیر اور عالمگیر ہے۔اس نے کسی قوم کو نظر انداز نہیں کیا۔اس نے کسی ملک کو نہیں چھوڑا اور اس نے کسی زمانے سے غفلت نہیں برتی۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ پہلی صدی میں انسان سے پیار کرنا ہے اور چودہویں صدی میں نہیں کرنا بلکہ اسلام نے یہ کہا ہے کہ پہلی صدی میں بھی انسان سے پیار کرنا ہے اور چودہویں صدی میں بھی پیار کرنا ہے اور اس دنیا کی زندگی کی آخری صدی میں بھی پیار کرتا ہے۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ میں نے صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کو تمہارا بھائی بنایا ہے اور بعد میں اگر تم نے اس اخوت کے مقام کو چھوڑ دیا تو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔اسلام نے یہ نہیں کہا بلکہ اسلام نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بنی نوع انسان کی خدمت کیلئے اخوت کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم اور اسلام کے ذریعہ سے فرمایا کہ میں نے انسان کو بھائی بھائی بنا کر مساوات کے مقام پر کھڑا کر دیا ہے۔بحیثیت بشر نہ کوئی کسی سے اونچا اور نہ کسی سے نیچا ہے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے والا جو سر سجدوں میں پڑا ہوا ہے وہ ساتو میں آسمان پر بھی ہے لیکن میں ان وجوہ کی بات نہیں کر رہا۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ بحیثیت بشر اسلام کامل اور مکمل اور حسین اور احسن مساوات قائم کرتا ہے۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ اگر کسی کا رنگ کالا ہو تو وہ تمہارے برابر نہیں۔تم اس سے بلند ہو۔اسلام نے یہ نہیں کہا کہ اگر کسی کے ہونٹ لٹک رہے ہوں جس طرح انگریزوں نے تصویروں میں افریقنوں کے ہونٹ لٹکے ہوئے دکھا دئیے تھے اور وہ عملاً اس طرح نہیں ہیں۔شاید ہزارافریقنوں میں سے ایک افریقن ہوگا جس کے ہونٹ لٹکے ہوئے ہونگے وہ بھی میری اور آپ کی شکلوں جیسے ہیں۔غرض افریقنوں سے اپنے بچوں کو ڈرانے کے لئے انگریزوں نے ان پر ایک یہ ظلم بھی کیا تھا مگر انہوں