مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 301 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 301

301 فرموده ۱۹۷۱ء د و مشعل راه جلد د دد دوم کوئی مغضوب ہو جائے) لیکن کوئی بھی ان کو پیار سے نہیں دیکھتا اور میں اس بات کا ذاتی گواہ ہوں۔جب میں انگلستان میں پڑھا کرتا تھا اس وقت یہ (یہودی) جرمنوں پر ظلم کر رہے تھے اور جرمن ان پر ظلم کر رہے تھے۔نہ جرمنوں کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ظلم سے ہاتھ نہیں رنگے اور نہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جرمنوں پر ظلم نہیں کیا۔دونوں ایک دوسرے پر ظلم کر رہے تھے اور انگریز کی حکومت یہودیوں کی پوری تائید کر رہی تھی۔لیکن آکسفورڈ جیسی جگہ جہاں سادہ طالب علم ہوتے ہیں انگریز میں یہ بڑی خوبی ہے کہ وہ اپنی طالب علمی کے زمانہ میں بڑا سادہ رہتا ہے یعنی ایک کروڑ پتی آدمی کا بیٹا وہاں معمولی سی قمیص اور پتلون اور ایک موٹی سی فضول سی ٹائی پہن کر آ جاتا ہے اور یہ بالکل پتہ نہیں لگ سکتا کہ اس کا خاندان کروڑ پانڈ کا مالک ہے ) اس سادگی کے باوجود وہ یہودیوں کے پاس سے گزرتے تھے تو سیدھے مندان سے بات نہیں کرتے تھے وہ ان سے نفرت کرتے تھے حالانکہ ان کا ملک اور ان کی حکومت یہودیوں کی تائید میں لڑنے مرنے کیلئے تیار ہو گئی تھی لیکن ان کے دل میں ان کی عزت نہیں تھی اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے گر گئے تھے۔خدا تعالیٰ نے جس شکل میں اور جب ان کو اقتدار دیا ہے انہوں نے بنی نوع انسان کے فائدے کی بجائے بنی نوع انسان کے نقصان اور بنی نوع انسان کو فساد میں مبتلا کرنے کیلئے اپنا اثر و رسوخ یا مال و دولت استعمال کیا ہے۔اب بھی یہ ہمارے عرب ممالک کو ناحق تنگ کر رہے ہیں۔پیسے کے زور سے بڑی بڑی حکومتیں فضول خرچ بن گئی ہیں۔فضول خرچی صرف یہ نہیں ہوتی کہ آدمی عیش کرے بلکہ فصول خرچی یہ بھی ہے کہ آدمی سمجھے کہ میں نے دنیا پر تسلط جمانا ہے۔دنیا پر میں نے قبضہ کرنا ہے اور اس لئے میرے پاس اتنے ہوائی جہاز ہونے چاہئیں۔کئی سو سب میرین (آبدوزیں) ہونی چاہئیں۔اتنا بیڑا ہونا چاہئے۔اتنی بڑی فوج ہونی چاہئے۔اتنی تو ہیں اور ٹینک ہونے چاہئیں اور پھر ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم ہونے چاہئیں لیکن اتنا اس کے پاس پیسہ نہیں ہوتا۔یعنی جتنی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ طاقت کے لحاظ سے ہمیں اتنا بڑا ہو جانا چاہئے ، اتنے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے۔پیسہ انہوں (یعنی یہودیوں) نے دبا کر رکھا ہوا ہے۔پھر یہ لوگ جو بڑے طاقت ور بننا چاہتے ہیں) ان سے پیسے لیتے ہیں اور فساد کی راہیں نکالتے ہیں۔چنانچہ بعض انگریزوں نے کتابیں لکھی ہیں کہ دنیا میں جہاں بھی فساد ہوا ہے، اس کے پیچھے یہودی تھا اور اس وجہ سے دنیا انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے دنیا ان سے پیسے لیتی ہے اور جس طرح مزدور کام کر دیتا ہے اسی طرح دنیا ان کا کام کر دیتی ہے۔مگر ہر مزدور اپنے آقا سے پیار تو نہیں کرتا۔لوگ پیسے لے کر ان کا کام تو کر دیتے ہیں مگر ان سے پیار نہیں کرتے۔پس یہ ایک بڑا نازک مسئلہ ہے یعنی جب اللہ تعالی اقتدار دیتا ہے جب اللہ تعالیٰ ملک دیتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ صاحب اثر و رسوخ بناتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ دولت دیتا ہے یا کسی کو بڑا بنا دیتا ہے یا آقا بنا دیتا ہے تو اس وقت بھی اس کے لئے بڑا خطرہ رہتا ہے۔اسی واسطے مسلمانوں نے مظلومیت کے زمانے میں ضعف کے زمانے میں یعنی جب دنیا کی ہر طرف سے دھتکارے ہوئے تھے۔جتنی اس زمانے میں استغفار کی ہے اس سے زیادہ