مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 288
فرموده ۱ ۱۹۷ء 288 د دمشعل راه حل راه جلد دوم اس لئے میں پیار کرتا ہوں بڑا اچھا ہوا۔خدا تعالیٰ نے مجھے اس وقت عقل دی۔اب میں سمجھتا ہوں کہ پچانوے فیصد کمزور ایمان دل میرے پیار نے جیت لئے ہیں اور ان کی کمزوریاں دور ہو گئیں۔اور ان کے نفاق جاتے ہے۔میں شاید کچھ کم کہ گیا ہوں پچانوے فیصد نہیں بلکہ ۹۹۹ کے دل میں نے جیت لئے ہیں۔ہزار میں سے ایک رہ گیا ہے یہ منافق گنتی کے ہیں تمہیں ہوں گے۔کمزور ایمان والوں کے مختلف درجات ہیں ان کی میں بات نہیں کر رہا البتہ منافق ہیں تمہیں ہی رہ گئے ہیں اور وہ بھی انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گے یا وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب میں جلیں گے چنانچہ کئی ایک کے منہ سے نکل جاتا ہے کہ ہم جہنم کے عذاب میں پڑے ہوئے ہیں۔ایک نے مجھ سے بات کی تھی۔میں نے کہا تم نے اپنے ہاتھ سے جہنم کا جو عذاب مول لیا ہے میں اس سے تمہیں نہیں بچا سکتا۔تمہارے ہی ہاتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ چیز پیش کر دیں جسے وہ قبول فرمالے تو جہنم جنت میں تبدیل ہو جائے گی۔بہر حال یہ جو صفات باری تعالیٰ ہیں جب ان پر ایمان کمزور ہو جاتا ہے تو پھر کمزور ایمان والوں کے دل میں شیطانی وسوسے پیدا ہونے لگ جاتے ہیں نفاق پہلے تھوڑا ہوتا ہے پھر بڑھتا چلا جاتا ہے بعض واپس آ جاتے ہیں بعض جہنم میں جا پڑتے ہیں اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی۔دوست ان کے لئے بھی دعا کیا کریں۔ہمارا تو کسی کے ساتھ کوئی عناد نہیں ہے۔وہ بھی مجھے ملنے آتے ہیں۔میں ان سے اسی طرح مسکرا کر مل رہا ہوتا ہوں۔جس طرح ایک بہت ایثار کرنے والے احمدیت کے فدائی حضرت نبی کریم ﷺ کے عاشق اور خدا پر جان دینے والے دوست سے مسکرا کر ملتا ہوں۔اور باتیں کرتا ہوں اس وقت میں اس کے لئے دعا کر رہا ہوتا ہوں کہ خدا تعالی تمہیں عقل دے اور سمجھ دے تا کہ تم صحیح راستے کا علم حاصل کرو اور پھر اللہ تعالیٰ اس پر چلنے کی تمہیں توفیق عطا فرمائے۔یا نچویں صفت شرک سے اجتناب میں نے بتایا ہے ربک فکبر غیر مسلموں کے لئے بھی ہے اور مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔یعنی ہر دو پر اثر انداز ہے اس واسطے بیچ میں اس کو رکھ کر پھر آگے فرمایا۔والرجز فاهجر یعنی شرک اور گناہ سے بچو اس کے معنی ذنب کے بھی ہیں اور بت پرستی کے بھی۔فرما یا شرک سے بچو۔قرآن کریم میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔جو آدمی اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم حاصل کر لیتا ہے وہ تو پھر مشرک نہیں ہو سکتا اور نہ دہریہ بن سکتا ہے۔یورپ میں ۱۹۶۷ء میں بھی اور پچھلے سال بھی کئی دہر یہ لوگ ملتے تھے افریقہ میں تو اس کے مواقع پیدا نہیں ہوئے لیکن یورپ میں میں لوگوں سے کہتا تھا کہ وہ فرد ( مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا ) جس نے اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا معجزانہ رنگ میں مشاہدہ کیا اُسے تمہاری ایک ہزار فلسفیانہ دلیل خدا