مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 266
مشعل راه جلد دوم د را فرموده ۱۹۷ء 266 ۱۸ اکتوبره ۱۹۷ء کوسید نا حضرت خلیفہ امسح الثالث رحم اللہ تعالی کا جلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کے اٹھائیسویں سالانہ اجتماع پر اختتامی خطاب ساڑھے تین بجے حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد خدام کو ایک روح پر ورا اور ولولہ انگیز اختتامی خطاب سے نوازا جو سوا گھنٹے سے کچھ زائد وقت تک جاری رہا۔تقریر کے آغاز میں حضور نے یاد دہانی کے رنگ میں اس بنیادی حقیقت کو بڑی تفصیل سے ذہن نشین کرایا کہ احمدی ہونے کی حیثیت میں ہمارے اموال و ہماری جانیں ، ہمارے نفوس، ہماری قوتیں اور استعداد میں غرض ہمارا سب کچھ ہمارا نہیں بلکہ ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ہماری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال دنیا میں قائم ہو۔اس خواہش اور اس جدو جہد میں ہم اس دنیا سے گذر جائیں گے اور ہمارے بعد ہماری نسلیں اس جد و جہد کو جاری رکھ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں بلند سے بلند تر کرتی چلی جائیں گی۔اس کے بعد حضور نے واضح فرمایا کہ خدام الاحمدیہ کا قیام بھی اس غرض سے ہوا کہ آنے والی نسلوں کی تربیت اس رنگ میں کی جائے کہ وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے قربانیاں دیتی چلی جائیں لیکن جس طرح انسان کے جسم کو بیماری لگ جاتی ہے اس طرح بعض اوقات جماعتی جسم کو بھی بیماریاں لگ جایا کرتی ہیں۔خدام الاحمدیہ کا بھی ایک جسم اور ایک روح ہے اس کی تنظیم کو بھی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہے اور کبھی کبھی اس کی تنظیم بیمار بھی ہوتی رہی ہے۔حضور نے خدام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تین سال (۶۴ ء تا۶۶ ء ) کا عرصہ سخت بیماری کا آپ پر گزرا ہے۔بیماری کے اس تین سالہ دور کا اگر ہم جائزہ لیں اور اجتماع میں سال بہ سال شمولیت کرنے والی مجالس کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو پوزیشن یہ بنتی ہے:۔سال شرکت کر نیوالی مجالس کی تعداد ۱۹۶۳ء ١٩٦٤ء ۲۱۰ ۲۰۱ ۱۹۶۵ء (اس سال اجتماع منعقد نہیں ہوا) ١٩٦٦ء ١٩٦٧ء ١٩٦٨ء ١٩٦٩ء 1+1 ۲۲۶ ۲۳۵ ۲۴۷