مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 22
فرموده ۱۹۶۶ء 22 د «مشعل راه جلد دوم دار نہیں بنے گا۔اگر واقعہ میں وہ اس چیز کا حق دار نہیں۔لیکن دنیا کی عزتیں عارضی عزتیں ہیں۔جیسا کہ بھاپ ہوتا ہے۔ایک بلبلہ سا پانی سے بن جاتا ہے۔اس کی اٹھان اور رفعت بھی ہے۔اس میں ایک حسن بھی ہے۔لیکن نہ اس میں حقیقت ہے اور نہ اس میں فائدہ ہی ہے۔یہی حال ان عزتوں کا ہے جو دنیا میں دنیا والوں کی طرف سے انسان حاصل کرتا ہے اور دنیا والوں کی نگاہ میں اسے میسر آتی ہیں۔حقیقی عزت غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کوئی عزتیں نہیں ہیں۔حقیقی عزت وہ ہے جو عزت کے حقیقی سرچشمہ سے نکلتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندے کوملتی ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میرے حضور محض باتیں کسی کام نہیں آئیں گی کیونکہ میں دلوں کے مخفی سے مخفی رازوں کو بھی جانے والا ہوں۔مجھے تمہارے اعمال میں وہ نقص وہ کوتاہیاں ، خودی کی وہ ملاوٹ جو تم جانتے ہو لیکن لوگ نہیں جانتے۔مجھے ان کا ہی علم نہیں بلکہ تمہارے اعمال کی اور تمہاری دعاؤں کی اور تمہارے اذکار کی وہ خامیاں اور ان کے وہ رخنے بھی جن سے تم خود بھی واقف نہیں ہو۔میرے علم سے باہر نہیں رہ سکتے۔اليه يصعد الكلم الطيب نیک باتیں بیشک اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہیں۔لیکن وہ اسی وقت اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہیں والعمل الصالح يرفعہ جب ان باتوں کو عمل صالح کر رہا ہو۔صعود کے معنی عربی زبان میں اس چیز کے ہوتے ہیں جو انسان سے خدا تعالیٰ تک پہنچے۔اور اس کے مقابلہ میں نزول اس کو کہتے ہیں جو برکت کے رنگ میں یا رحمت کے رنگ میں یا فضل کے رنگ میں یا بعض دفعہ بعض دوسرے رنگوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے کو پہنچتی ہیں۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اگر تم حقیقی عزت اس دنیا میں بھی اور اخروی زندگی میں حاصل کرنا چاہتے ہو تو عزت کے معیار کی نشان دہی ہم کر دیتے ہیں اور وہ ہے ہماری ہی ذات الله العزة جميعا اور اس سلسلہ میں تمہیں ایک تنبیہ بھی کر دیتے ہیں کہ محض باتیں کرنا تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچائے گا۔جب تک کہ اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ اچھے عمل بھی نہ کئے جائیں گے۔اس کیلئے عربی زبان میں ایمان کے معنے صرف دل کے اقرار یا زبان کے اقرار کے ہی نہیں بلکہ ایمان کے معنی کے اندر یہ بات بھی آئمہ لغت نے بیان کی ہے کہ دلی اقرار اور زبان کے اظہار کے ساتھ ساتھ انسانی جوارح (یعنی وہ اعضاء جن سے ان کے عمل سرزد ہوتے ہیں) کی تصدیق بھی شامل ہو۔جب تک ان کی تصدیق اس کے شامل حال نہ ہو وہ ایمان نہیں کہلا سکتا۔حقیقی مومن کی پہچان غرض حقیقی مومن دراصل وہی ہے جو دل سے بھی اقرار کر رہا ہو اور زبان سے بھی اس کا اظہار کر رہا ہو اور اپنے ایمان کے مطابق اعمال صالحہ بھی بجالا رہا ہو لیکن چونکہ عام طور پر انسان کی توجہ اس طرف مبذول نہیں ہوتی اس لئے اللہ تعالیٰ نے جابجا ایمان کے ساتھ اعمال صالح کے الفاظ کو واضح طور پر قرآن کریم کی مختلف آیات میں