مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 239

239 فرموده ۱۹۷۰ء دو مشعل راه جلد دوم سچی دلیلیں بتائی ہیں وہ یاد ہونی چاہئیں۔دوسرے یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو آسمانی نشانات اور معجزات سے نوازا ہے۔اسلام کے مخالفین علمی دلیل کے مقابلے میں تو شاید کوئی دلیل پیش کر سکیں لیکن آسمانی نشانات دکھانے سے قاصر ہیں۔دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کثرت سے آسمانی نشانات اور معجزات عطا کئے ہیں۔حضور نے بعض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا انہیں بار بار سامنے لانا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے وعدوں پر ایمان تازہ اور یقین پختہ ہوتا رہے اور انہیں بطور دلیل کے پیش کر کے مخالف کا منہ بند کیا جائے۔حضور نے فرمایا مخالفین کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو تیسرا ہتھیار دیا ہے وہ دعا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے اس شعر میں اسی طرف اشارہ ہے۔آپ فرماتے ہیں عدد جب بڑھ گیا شور و فغاں میں نہاں ہم ہو گئے یار نہاں میں سلسلہ احمدیہ کی مخالفت میں لوگوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر چونکہ جماعت احمدیہ کا سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے اس لئے ہم نے ہر مشکل اور ایذا دہی کے وقت اسی سے مدد طلب کی اور اسی کو اپنی پناہ گاہ بنایا بلکہ اسی میں اپنے آپ کو فنا کر دیا اس لئے ہمارے مخالفین ہمیشہ نا کام رہے اور جماعت اپنی تعداد اور قربانیوں کے معیار میں ترقی کرتی ہوئی کہیں سے کہیں تک جا پہنچی۔خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی دلیلیں سکھائی ہیں جن کا بڑے سے بڑا عالم یا فلسفی بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہمیں آسمانی نشانات عطا فرمائے ہیں جن کے مقابلے میں دوسرے مذاہب عاجز اور بے بس ہیں۔ہمیں دعا کا ایسا گر سکھایا ہے جس کے مقابلے میں مخالفت ہمیں کوئی نقصان پہنچا ہی نہیں سکتی بلکہ وہ ہمارے لئے کھاد کا کام دیتی ہے اور ہماری ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔حضور نے نوجوان نسل کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ اپنے علم کو ان دلائل کے ساتھ پختہ بنا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بالخصوص در مشین کو کثرت سے پڑھیں اور دعا کرنے کی عادت ڈالیں اور پکے ، بچے اور سیدھے سادے مسلمان احمدی بن کر ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں کوشاں رہیں۔آخر میں حضور نے از راہ شفقت تمام اطفال اور خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔اس دوران دانہ کی مجلس کی نمائندگی نہ ہونے پر قائد عمومی کو یہ ہدایت فرمائی کہ دانہ کے سارے خدام سالانہ اجتماع پر ربوہ ضرور پہنچیں میں انہیں علیحدہ ملاقات کا موقعہ دوں گا۔( بحوالہ روزنامه الفضل ربوه ۱۱ / اکتوبر ۱۹۷ء)