مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 208 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 208

کل راه جلد دوم صلى الله فرموده ۱۹۶۹ء 208 دومشعل فرمایا ہے۔یہ آنحضرت علی کی حسن و احسان کے جلوے ہیں جنہیں آپ نے اپنی کتابوں میں بھر دیا ہے۔اور یہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات ہیں جن پر آپ نے بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے اور پھر ہمیں بتایا ہے کہ ایسی صفات میں ہی حدوث کا جامہ پہن کر مخلوق میں جلوہ گر ہوتی ہیں اور ہر مخلوق میں اللہ تعالی نے یہ تاثیر رکھی ہے کہ وہ صفات باری کا اثر قبول کرتی ہے۔پس یہ آپ نے اتنے عظیم خدا۔اتنے طاقتور خدا۔اتنے بلند خدا۔اتنے وسعتوں والے خدا اتنے کبیر خدا اور اتنے رزاق خدا جو ہر صفت میں یکتا اور واحد و یگانہ خدا ہے سے دنیا کو متعارف کرایا اور ہمیں یہ ہدایت فرمائی کہ ہر صفت کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ اور قرآن کریم نے کہا ہے کہ تم اپنے قومی کی تربیت کر رہے ہو گے تو ان کی ہی تربیت نہیں ہوگی جب تک میری صفات سے اثر پذیر ہونے والے نہیں بنو گے یعنی میری صفات کا رنگ اپنے اندر پیدا نہیں کر رہے ہو گے۔پس آپ نے عظیم تعلیم اسلام کی نہایت حسین رنگ میں بڑی واضح بیان کے ساتھ ہمارے سامنے رکھی۔اس کی قیمت بتاؤں کتنی ہے۔زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے اس کی بھی وہ قیمت نہیں جو اس کی قیمت ہے۔جنت کے متعلق ہمیں یہ بتایا کہ سارے عالمین کی جو قیمت ہے وہ جنت کے برابر نہیں اور جنت پھل ہے آنحضرت ﷺ کے خون سے سینچے ہوئے اسلام کے پودے کا۔کتنی قیمت اس اسلام کی اور اس کی تعلیم کی ہے لیکن بعض نادان ایسے بھی ہیں جو اس کی قیمت نہیں جانتے وہ اس کو بھول گئے ہیں۔ان کو سمجھانا ہمارا فرض ہے کہ ایک نہایت ہی قیمتی چیز تمہارے ہاتھ میں دی گئی ہے اس سے غافل نہ ہو ایک ایسی پاک تعلیم ایک ایسا حسین لائحہ عمل ایک ایسی خوبصورت شریعت اور ایسے مفید احکامات دیئے گئے ہیں کہ ان کا کوئی اور مذہب یا کوئی اور نسل مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔عقل اور الہام کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وحی والہام کے متعلق فرمایا ہے کہ کون کہتا ہے کہ عقل سے کام نہ لو۔عقل تو ہے ہی اس لئے کہ اس سے کام لینا چاہیئے اللہ تعالیٰ نے بھی یہی فرمایا ہے۔لیکن اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ عقل کی سمت محدود ہے جہاں عقل جا کر ٹھہر جاتی ہے اور آگے چلنا اس کے لئے ممکن نہیں رہتا تو اللہ تعالیٰ اس نقطہ سے کشف اور رویا اور وحی جاری کرتا ہے۔پس عقل کا الہام کے ساتھ کوئی تضاد نہیں ہے۔کوئی ایک دوسرے کی ضد یا مخالف نہیں ہیں بلکہ ایک حد تک چلنے کے لئے ہمیں عقل دی گئی اور اس کے آگے وحی و الہام یا کشف اور رویاء کی شکل میں اللہ تعالیٰ کے فضل نے انسان کی انگلی پکڑ کر آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائی۔پس انسان کہاں تک اس حسن و احسان کو بیان کر سکتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس احمدی نوجوان سے زیادہ کوئی بد بخت نہیں جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا مگر آپ نے جس رنگ میں اسلام کو پیش کیا تھا اور خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات اور آنحضرت می ﷺ کے حسن و احسان کو بیان فرمایا تھا اس طرف اس