مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 196
د و مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 196 جب تک ہمیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور پیار نظر آئے گا یہ چیزیں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔سچائی کی شناخت کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے صلى الله ایک گروہ ایسا بھی تھا ان کو یہ نظر آیا کہ اگر ہم نے اس سچائی کو قبول کیا تو ہمیں جذبات کی زبر دست قربانی دینی پڑے گی اور اس میں مرد بھی تھے اور عور تیں بھی تھیں۔کسی مرد نے یہ خیال کیا کہ میرے یہ جاہل رشتہ دار میری بیوی یا میرے بچوں کو مجھ سے چھین لیں گے۔عورت جس کے دل میں بڑی مامتا ہوتی ہے اس کو یہ نظر آیا کہ اگر میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کا جوحسن دیکھا ہے اس کو قبول کر لیا تو میرا خاوند مجھے علیحدہ کر دے گا یا میرے بچے چھن جائیں گے۔لیکن اس ماں نے یا اس باپ نے کہا کہ میرے بچے چھن جائیں جذبات ہی ہیں ناں! جذباتی طور پر مجھے تکلیف ہوگی۔لیکن میں ان جذبات کا جو فطری طور پر پائے جاتے ہیں کیا پرواہ کرتا ہوں اور اس کے مقابلہ میں میں یہ دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے دل میں ( مثال اور تشبیہ دیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے متعلق) میرے لئے محبت کا جذبہ پیدا ہو جائے گا۔تو سارے جذبے اس جذبہ پر قربان۔اور آپ کی تاریخ میں ایسے بیسیوں اور سینکڑوں مرد اور عورتیں ہیں۔مردوں سے بیویاں چھین لی گئیں اور اگر عورت تھی تو مرد نے اسے طلاق دے دی اور بچوں کو ان سے علیحدہ کر دیا گیا۔لیکن ان کے چہروں پر ایک ذرہ بھر ملال نہیں آیا۔کیونکہ وہ احمدیت کی قدر و قیمت کو جانتے تھے ایک گروہ ایسا بھی تھا جس کو نظر آرہا تھا کہ اگر ہم جو ایمان لے آئے تو ہم سے دنیوی اموال چھین لئے جائیں گے۔باپ ہمیں عاق کر دے گا۔گھر سے نکال دے گا ایسی بیسیوں اور سینکڑوں مثالیں ہیں کہ احمدیت کی وجہ سے بعض کو واقعی گھر سے نکال دیا گیا۔لیکن انہوں نے اس کی ذرہ بھی پرواہ نہ کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ دنیا کے اموال ان روحانی خزائن کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتے ہیں جو آنحضرت امیہ کے طفیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہمیں دے رہا ہے۔انہوں نے سوچا کہ اگر ساری دُنیا کے اموال بھی ہمارے پاس ہوتے تب بھی وہ اس چیز کی قیمت کے برابر نہیں تھے۔جو مال مجھے اس کے بدلے میں ملے گا وہ ہزار نہیں۔ایک لاکھ نہیں، ایک کروڑ نہیں، ایک ارب سے بھی بے حد وشمار زیادہ ہے اس لئے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔دنیوی مال جاتا ہے تو بے شک جائے مجھے اس کا غم نہیں۔ہماری تاریخ میں عملاً ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ نہ زندگی کی پرواہ کی نہ اموال کی پرواہ کی نہ عزتوں کی پرواہ کی نہ جذبات کی پرواہ کی۔آنحضرت میے کے طفیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ وہ ایک ایسی ہستی کے عاشق ہو گئے تھے کہ کسی اور کی محبت ان کے دلوں میں باقی نہیں رہی تھی۔دراصل یہی وہ گروہ ہے جس کو قائم کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے اور جن کو سمجھانے کے لئے آپ کی کتب بھری پڑی ہیں کہ اسلام یہ ہے۔قرآن کریم کی عظمت یہ ہے۔سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان یہ ہے۔اللہ تعالٰی کا جلال اور اس کا جمال یہ ہے۔اس کی یہ صفات حسنہ ہیں جن کا عرفان حاصل کرنا چاہیئے۔