مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 193 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 193

193 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم دد سمندر کی لہروں کی طرح ہی میری رحمت بھی جوش میں آتی ہے اور تمہاری غفلتوں کو ڈھانکتی چلی جاتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کے باوجود انسان کتنا بد بخت ہے اور کتنا احمق ہے کہ وہ میرے ان فضلوں کو نہیں دیکھتا۔میں اس کی ترقی کے سامان پیدا کرنا چاہتا ہوں اور میں اسے اپنی رحمت سے نوازنا چاہتا ہوں۔میں ہر لحاظ سے اُسے کامیاب کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور ناشکری کرنے بیٹھ جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جیسا کہ میں نے ابھی اشارہ کیا ہے ہر قسم کی نعمتیں جو انسانی قوتوں، قابلیتوں اور استعدادوں کے علاوہ ہیں وہ اس لئے پیدا کی ہیں کہ انسان کے قومی اس رنگ میں اور اس حد تک مدارج ارتقاء طے کریں جس رنگ میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔کہ وہ ترقی کریں اور جس حد تک اللہ تعالیٰ نے استعداد مقرر کر دی ہے حد بندی کر دی ہے کیونکہ وہ قادر بھی ہے اور اس نے قدرہ تقدیر " کے مطابق ہر ایک کو اپنی استعداد کے دائرہ کے ساتھ باندھ بھی دیا ہے اپنے دائرہ استعداد سے کوئی چیز باہر نکل نہیں سکتی۔اس کی نعمتوں کی کوئی حد نسبت نہیں کی جاسکتی۔لیکن انسان کے قومی اور استعداد کی اس نے ایک دائرہ کے اندر حد نسبت کر دی ہے۔ہر لحاظ سے محدود ہے لیکن ہمارے رب کریم نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ان قومی کونشو و نمادینے کے لئے اسباب مادیہ یعنی دوسری نعمتوں کا 66% استعمال ضروری ہے۔اسلام نے ہمیں رہبانیت نہیں سکھائی۔اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو تو جو اسباب میں نے پیدا کئے ہیں ان سے ہمیشہ کام لینا پڑے گا ورنہ ناشکری ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی ضمن میں فرماتے ہیں:۔اگر رعایت اسباب نہ کی جاوے تو انسانی قوتوں کی بے حرمتی کرنا اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فعل کی توہین کرنا ہے۔خدا کا قرب کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۷۹) اس لئے کہ یہ تمام اسباب ان قوتوں کی صحیح اور کامل نشو و نما کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور صحیح اور کامل نشو ونما کا ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ چونکہ انسان صاحب اختیار ہے وہ غلطی بھی کرتا ہے۔بعض دفعہ جان بوجھ کر غلطی کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنی کمزوری کی وجہ سے غلطی سرزد ہو جاتی ہے کوئی ایسا طریق کوئی ایسی ہدایت کوئی ایسی شریعت ہونی چاہیئے کہ جو غافل انسان کو بیدار کرنے والی ہو اور جو نا سمجھ انسان کو سمجھ عطا کرنے والی ہو اور جو شوق رکھنے والے اور جذبہ رکھنے والے انسان کی رہنمائی کرنے والی ہو کہ انسان اپنی قوتوں کی نشوونما کے لئے ان مادی سامانوں کو اس رنگ اور اس طور پر استعمال کرے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لے۔ہماری عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس مطالبہ کا جو انسان کی فطرت کے اندر ہے یعنی انسان کی