مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 179
179 فرموده ۱۹۶۹ء دو مشعل راه جلد د دد دوم اور کفر سے کام لیتے ہیں ان لوگوں کی نگاہ میں ان کی اس بدبختی کے نتیجہ میں دنیوی زندگی (ورلی زندگی) کو خوبصورت کر کے دکھایا گیا ہے اور اس سے ان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔اگر کسی ایک چیز سے آپ سور و پیر کا فائدہ اٹھا سکتے ہوں۔لیکن اٹھائیں صرف پانچ روپیہ کا فائدہ۔تب بھی یہ بد بختی ہے کہ آپ پچانوے روپے کا اور فائدہ اٹھا سکتے تھے۔لیکن وہ فائدہ آپ نے اٹھایا نہیں۔ایک شخص کو ایک ایسی عطاملی (ساری عطا یا ہی اس قسم کی ہیں ) کہ وہ ان کے ذریعہ سے اس ورلی زندگی کی جنت بھی حاصل کر سکتا تھا۔اور اس اخروی زندگی کی جنت بھی حاصل کر سکتا تھا۔اور ان دو جنتوں کا مقابلہ ایک اور سو کا نہیں ایک اور ہزار کا نہیں ایک اور ارب یا کھرب کا بھی نہیں بلکہ یہ بغیر حساب کے ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حاصل تو کرتے ہیں ہماری عطا کردہ قوتوں اور استعدادوں سے بے شمار کے مقابلہ میں صرف پانچ روپیہ کا فائدہ اور تمسخر شروع کر دیتے ہیں مومنوں کی جماعت سے۔جنہوں نے بے شمار نعمتیں اور فضل حاصل کئے اور ان کے نتیجے اور ثمر اور پھل کھائے ویسخرون من الذين امنوا۔پس لوگ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے اور بے شمار عطایا اور ان کے ثمرات کے وارث تھے یہ ناشکرے منکر ان سے تمسخر کرنا شروع کر دیتے ہیں ان کو استہزاء کی نظر سے دیکھتے ہیں ویسخرون من الذين امنوا۔پس جو لوگ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے اور بے شمار عطایا اور ان کے ثمرات کے وارث تھے یہ ناشکرے منکر ان سے تمسخر کرنا شروع کر دیتے ہیں انکو استہزا کی نظر سے دیکھتے ہیں اور استہزا کی نگاہ سے اس لئے دیکھتے ہیں کہ کہتے تم نے دنیا میں عیش وعشرت سے فائدہ نہیں اُٹھایا۔دنیوی زینت سے فائدہ نہیں اٹھایا اور یہ نہیں سمجھتے اور ان کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے کہ ان لوگوں نے دنیا میں بھی لذت پائی جو منکر ناشکرے کو نہیں ملی اور اخروی لذتوں کے سامان بھی ان کے لئے مقدر کئے گئے جن سے دنیا دار ناشکر امنکر محروم رہے گا اور اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کی غضب اور غصے کی جلا دینے والی آگ میں جو ایک سیکنڈ کے اندر بھسم کر کے رکھ دیتی ہے ایک لمبا عرصہ ان لوگوں کو رہنا پڑے گا۔لیکن یہ جاہل ناشکرے حیات دنیا کی ظاہری زینت پر فریفتہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے والے پر تمسخر کرتے ہیں اور حقیقت سے وہ آشنا نہیں۔حالانکہ بات یہ ہے کہ جس دن ایمان لانے والوں کی جزا کا فیصلہ ہوگا اس دنیا میں بھی اور اس دنیا میں بھی۔اس دن معلوم ہوگا کہ والذین اتقو فونھم کہ ان سے کہیں بلند اور بالا اور ان سے برتر اور ان پر فوقیت رکھنے والے وہ لوگ تھے جن سے یہ تمسخر کیا کرتے تھے کیونکہ یہ گروہ تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کا پسندیدہ گروہ ہے اور وَ اللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ جس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اسے بغیر حساب کے دیتا ہے۔میں نے پہلے بتایا تھا کہ اس دنیا کی دنیوی زینت اور اس دنیا کی دنیوی لذت اور اس دنیا کا دنیوی سرور اس لذت اور سرور اور اس حسن اور اس نور کے مقابلہ میں جو اللہ تعالیٰ سے اس کا بندہ حاصل کرتا ہے ایک اور ایک کھرب کی نسبت بھی نہیں رکھتا۔بلکہ ایک کی نسبت جو غیر محدود سے ہے وہ نسبت رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو کچھ ان کو ملنے والا ہے وہ تو بغیر حساب کے ہے اس کو اعداد وشمار اپنے احاطہ میں نہیں لے سکتے۔غرض ایک نہایت