مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 178 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 178

فرموده ۱۹۶۹ء 178 د و مشعل راه جلد دوم فائدہ ہے۔دنیا کے بہت سارے دکھوں سے تم بچ جاؤ گے اور اس دوزخ کی آگ سے تم محفوظ ہو جاؤ گے۔جس کے تخیل سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جیسا کہ قران کریم میں بہت جگہ یہ بیان ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ومن کفر میں نے اپنی نعمتیں دیں لیکن پھر بھی میرے بندوں میں سے بعض ایسے ہو نگے جو میر اشکر ادا نہیں کریں گے۔جو میری ان نعمتوں کی صحیح نشو و نما نہیں کریں گے۔ان سے صحیح اور حقیقی فائدہ نہیں اٹھا ئیں گے وہ ناشکری کریں گے اور اس بات کو بھول جائیں گے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی تھی۔تو وہ اس وقت بھی بے نیاز تھا۔اس کو کسی چیز کی احتیاج نہیں تھی جس کی طرف میں نے شروع میں اشارہ کیا ہے اور وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اس بے نیازی کے باوجود اس کی صفت کریم نے یہ چاہا کہ وہ بے حد و حساب سخاوت کرے اور بخشش کرے اور اپنی اس صفت کے ماتحت اسنے بخشش کی۔اس کے کریم ہونے کی صفت سے جس کے نتیجہ میں انسان کو یہ تمام تو تی اور قابلیتیں ملیں۔اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اللہ نی نہیں ہے اس کو کوئی ضرورت تھی۔اس کو کوئی احتیاج تھی۔اس لئے اس نے یہ چیزیں دیں۔یہ احمقانہ بات ہے۔اللہ تعالیٰ جہاں غنی ہے۔وہاں وہ کریم بھی ہے اور جہاں وہ کریم ہے وہاں وہ منی بھی ہے۔یعنی اس کی سخاوت اس کی بخشش اس کی عطا۔اس کا اپنے بندوں پر نعمتوں اور فضلوں کو پانی کی طرح بہاد دینا یہ اس کی صفت کریم کے ماتحت ہے لیکن وہ شخص نا شکرا اور احمق ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے یا ہمارے کسی حق کے نتیجہ میں ہمیں یہ چیز میں دی ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ فنی خدا نے کریم ہونے کی حیثیت سے تمہیں یہ بخشیں دی ہیں اور تم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو اور شکر کا جو طریق اس نے بتایا ہے اس کا اسے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس کو کوئی احتیاج نہیں۔وہ تو غنی ہے اس کا فائدہ تمہیں ہی ملے گا دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاو من يشكـرفـانـما يشكر لنفسه ومن كفر فان الله غنى حمید (فرقان:۱۳) یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ جو شخص ناشکری کرتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب نعمتیں ہمیں بغیر استحقاق کے ملی ہیں۔وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ کے لئے ہر حمد ہے۔ہر حمد اور تعریف اللہ ہی کی ہے۔اصل میں وہی حقیقی معنی میں حمد کا مستحق اور تعریف کا حقدار ہے۔اگر ایک بندہ اس کی حمد نہیں کرتا۔اگر ایک بندہ اس کی تعریف نہیں کرتا۔اگر ایک بندہ اس کی عطا پر اس کی صحیح نشو ونما اور اس کے صحیح استعمال سے اس کا شکر ادا نہیں کرتا۔تو اس سے خدا تعالیٰ کی تعریف اور حمد میں کوئی فرق نہیں آتا۔اس کے اندر کوئی عیب نہیں پیدا ہوتا۔ہاں اس بندے کے اندر عیب پیدا ہو جاتا ہے۔بندے کے اندر ایک نقص پیدا ہو جاتا ہے۔اس کے چہرے پر ایک داغ لگ جاتا ہے اور وہ خدا سے دُوری کا داغ ہے اور اس سے تم کو بچنا چاہئیے۔اللہ کی شان میں اس سے کوئی فرق نہیں آتا۔لیکن بہت سے لوگ ہیں جو اپنے رب کو بھول جاتے ہیں اور وہ اس کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے۔جیسا کہ قدر کرنی چاہئیے۔ان کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ میں فرمایا: زين لـلـذيـن كـفـــروا الـحـيــة الدنيا ويسخرون من الذين آمنوا والذين اتقو افوقهم يوم القيامة والله يرزق من يشاء بغير حساب (آیت ۲۱۳) که اتنی نعمتوں کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے