مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 15

15 فرموده ۱۹۶۶ء د و مشعل راه جلد دوم دو کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمیں اس بات کی احتیاج ہوتی ہے کہ وہ ہمیں سیدھے راستے سے ادھر ادھر نہ جانے ے۔غرض خدا تعالیٰ نے اپنی دونوں صفات رحمان اور رحیم کا فائدہ محض اپنے فضل سے ہمارے لئے مقدر کر دیا ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات غنی ہے۔وہ ہمارے کسی عمل کی محتاج نہیں اور ہمیں اس فائدہ کا جو اس کی صفات رحمان اور رحیم پہنچارہی ہیں کوئی حق نہیں۔ہم کسی حق کی بناء پر اس کا اس سے مطالبہ نہیں کر سکتے۔لیکن وہ ذات جو اپنے بندہ سے بہت ہی پیار کرنے والی ہے۔محض اپنے فضل سے اپنی صفت رحمانیت کے بھی اور اپنی صفت رحیمیت کے بھی بے شمار جلوے ہمیں دکھاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی بڑی لطیف آیت قرآن کریم کی ہر سورت سے پہلے نازل کی۔اور رسول کریم علیہ کے ذریعہ ہمیں ہدایت دی کہ ہم اپنے ہر کام سے پہلے اسے پڑھا کریں لیکن یہ کوئی ٹو نا نہیں۔نہ یہ کوئی جادو ہے کہ اسے پڑھ لیا یا اسے کسی کاغذ کے پرزہ پر لکھ کر اپنے پاس رکھ لیا۔تو کام ہو گیا بلکہ اس کے پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں جو معانی بیان کئے گئے ہیں۔ان پر غور کرو ان کو ہمیشہ سامنے رکھو۔پھر تمہیں علم ہوگا۔کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات رحمانیت اور رحیمیت کے جلوے تمہارے لئے ظاہر نہ ہوں۔تم کسی صورت میں بھی اور کسی کام میں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس خدا تعالیٰ سے ایک دعا یہ مانگنی چاہئے۔کہ جہاں تو نے ہم پر پہلے بے شمار فضل کئے ہیں۔وہاں آئندہ بھی تو ہماری کوتاہیوں اور غفلتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور ہمارے عمل کو نہ دیکھتے ہوئے ہمیں رحمانیت کے جلوے دکھاتا چلا جا۔اور دوسرے یہ دعا مانگنی چاہیئے۔کہ اے خدا ہم کوشش تو کرتے ہیں۔لیکن کوشش ان ذرائع سے کرتے ہیں جو ہمارے اپنے نہیں۔نہ ہماری صحت اپنی ہے نہ ہماری طاقت اپنی ہے۔نہ وجاہت اپنی ہے۔نہ اموال اپنے ہیں نہ اسباب اپنے ہیں۔یہ سب کچھ تیرا ہی پیدا کردہ ہے۔ہم انہیں استعمال کرتے ہوئے ہزاروں غلطیاں کر جاتے ہیں۔تو ان غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہماری کوششوں کے بہترین نتائج نکال۔پس آج بسم اللہ الرحمن الرحیم سے اس کلاس کو شروع کیا جاتا ہے خدا کرے کہ میں بھی اور آپ سب بھی خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے ہوں اور وہ ہمارا پیارا اور پیار کر نیوالا رب ہمیشہ پیار کی نگاہ ہم پر رکھے۔اور ہمارے لئے ہمیشہ رحمانیت اور رحیمیت کے جلوے دکھاتا رہے اور اس رنگ میں دکھاتا رہے کہ ہماری حقیر کوششوں کے نتیجہ میں دین اور دنیا کی حسنات ہمیں ملتی رہیں۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعا فرمائی۔دعا کے بعد فرمایا: -