مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 167
167 فرموده ۱۹۶۹ء دو مشعل راه جلد د دوم گھر جا کر وہ رقم بھی بھجوادی۔پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت کا جلوہ اس رنگ میں دیکھا تھا۔ان کو کسی کو کچھ کہنے یا کسی سے اپنی ضرورت کا اظہار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ان کو معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ میری ضرورت کو پورا کرے گا کسی اور کے سامنے مجھے جھکنے کی ضرورت نہیں۔اس طرح مثلاً بیماری ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے۔انسان کے اندر بد خصلتیں پائی جاتی ہیں جن کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان بیمار ہو جاتا ہے۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ (الشعراء: ۸۱) یعنی مرض میری اپنی پیدا کردہ ہے اور شفا ہو نہیں سکتی جب تک اللہ تعالیٰ شفا نہ بخشے۔اب جو شخص مریض ہوتا ہے اس کے دماغ میں بنیادی طور پر دو خیال پیدا ہوتے ہیں ایک یہ کہ ڈاکٹر نے میری بیماری کی تشخیص کر کے میرے لئے دوا تجویز کرنی ہے اور اس کی تشخیص اور تجویز کردہ دوا کے نتیجہ میں میری بیماری دور ہو جائے گی چنانچہ وہ اس خیال کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے لیکن ایک دوسرا شخص یہ سمجھتا ہے کہ مجھے شفاء تو صرف اللہ تعالیٰ نے دینی ہے لیکن یہ سامانوں کی دنیا یہ اسباب کی دنیا بلاوجہ نہیں ہے۔اگر اس نے خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ سامانوں سے فائدہ نہ اٹھایا تو کہیں میرا رب مجھ سے ناراض نہ ہو جائے۔ایسا شخص دوائی اس لئے نہیں استعمال کرتا کہ وہ دوائی یا ڈاکٹر پر بھروسہ رکھتا ہے۔وہ دوائی اس لئے کھاتا ہے کہ میرے رب نے کہا ہے کہ تدبیر کرو اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :- لكل داء دواء “ (صحیح مسلم جزء ثانى باب لكل داء دواء واستحباب میرے رب نے اپنے فضل سے ہر بیماری کی دوا پیدا کی ہے۔شفا تو اسی نے دینی ہے میں ناشکرا بندہ نہیں بننا چاہتا۔وہ اس خیال سے کہ اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور اس کے دل میں یہ کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلہ میں ڈاکٹر ایک جاہل آدمی ہے۔اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ڈاکٹر کا علم کیا حقیقت رکھتا ہے اور اس نے مجھے کیا فائدہ پہنچانا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تیرے لئے دوا پیدا کی اس سے تجھے کام لینا چاہئے۔وہ سامان استعمال کرنے چاہیے جو میں نے پیدا کئے ہیں۔تجھے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے البتہ تیری دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا میرا کام ہے۔پس جس شخص کے ذہن پر خدائے شافی کا جلوہ کچھ اس طور پر جلو فگن ہوتا ہے اس کے نزدیک نہ کسی ڈاکٹر کیی کوئی حیثیت ہوتی ہے۔نہ ہی دوا کوئی حیثیت رکھتی ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ساری دوائیں کھا لیا کرو ایلو پیتھی دوائیں بھی ، ہومیو پیتھی ادویہ بھی، طب یونانی بھی اور صدری نسخے بھی استعمال کر لو تا کہ تمہارے اندر شرک کی کوئی رگ پیدا نہ ہو جائے کہ فلاں دوائی نے مجھے آرام پہنچایا ہے۔بسا اوقات مٹی کی چنکی یا کاغذ کی گولی یعنی ہوئی انسان دوسرے کو کھلا دیتا ہے اور اس سے آرام آجاتا ہے مگر پانچ چھ