مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 14
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۶ء 14 کہ خدا تعالیٰ کی رحیمیت کی صفت کو جوش میں لانے کے لئے تم جو اعمال کرو گے۔ان سے پہلے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت تم پر بڑے احسان کر چکی ہوگی۔صفت رحیمیت پھر رحیمیت کی صفت تمہیں تمہارے اعمال کے مطابق جزا دے گی اگر عمل کے میدان میں مجاہدات کے میدان میں اور کوشش اور تگ و دو کے میدان میں خالی رحیمیت کی صفت ہی جلوہ گر رہے۔تو ہمیں کسی کام میں بھی کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔کیونکہ ہم کمزور انسان ہیں۔ہزاروں غفلتیں ہم سے ہوتی ہیں ہزاروں کو تا ہیاں ہم سے سرزد ہوتی ہیں۔ہماری کوششوں میں بہت سے نقائص رہ جاتے ہیں۔رحمانیت کے صفت کے ماتحت خدا تعالی ہم پر احسان نہ کرے۔تو ہمیں کامیابی نصیب نہیں ہو سکتی۔مثلاً ایک طالب علم ہے اس نے میٹرک کا امتحان دینا ہے۔جس کے لئے وہ تیاری کر رہا ہے اس کے پاس اس کی کتاب موجود ہے جس میں ہر چیز سفید وسیاہ میں موجود ہے۔لیکن پڑھتے پڑھتے اسے نیند آ جاتی ہے اور مضمون کا ضروری اور اہم حصہ اس کے ذہن کے سامنے آتا نہیں۔اس کے نتیجہ میں امتحان میں اس کا دماغ پریشان ہوتا ہے۔لیکن اگر رحیمیت کے ساتھ رحمانیت بھی ملی ہوئی ہو۔تو وہ چیزیں اس کے سامنے آجائیں گی جن کا جاننا اس کے لئے ضروری ہے۔جو دوست دعا کرنے والے ہیں انہوں نے اس کا اپنی ذات میں کئی بار تجربہ کیا ہوگا۔میں جب طالب علم تھا۔تب میں نے خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کا جلوہ اس رنگ میں کئی بار دیکھا۔مثلاً جب میں مولوی فاضل کا امتحان دے رہا تھا اس وقت ہم تین ساتھی اکٹھا پڑھا کرتے تھے۔دوسرے دونوں ساتھی بھی ہوشیار تھے۔میں بھی تھوڑا بہت جانتا تھا۔کتب کے نوٹ بھی میں نے لئے ہوئے تھے۔امتحان کے لئے ہم امرتسر گئے ہوئے تھے۔بعض اوقات پڑھتے پڑھتے نو یا ساڑھے نو بجے میرا دماغ کہتا۔اب نہیں پڑھنا۔کیونکہ کل جو حصہ امتحان میں آنا تھا وہ دیکھ لیا ہے۔اب جو کچھ پڑھوں گا۔وہ کل کے امتحان کے لئے ضروری نہیں۔سو میں اپنے ساتھیوں سے کہتا میں اب جا کر سوتا ہوں۔وہ کہتے اپنے نوٹ ہمارے پاس رکھ دیں ہم ابھی پڑھیں گے اور ہمیشہ یہی ہوا۔کہ اگلے دن امتحان میں پرچہ کتاب کے اسی حصہ سے آتا جو میں نو یا ساڑھے نو بجے رات تک دیکھ لیتا تھا۔اگر میں صبح تک بھی پڑھتا رہتا۔تو میری یہ حرکت لغو اور میرے دماغ کو تھکا دینے والی ہوتی۔غرض رحمانیت رحیمیت کو بیک (Back) کرتی ہے۔اس کی راہنمائی کرتی ہے۔اس کی حد بندی کرتی ہے اور اگر ہمارے کسی عمل کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے ماتحت اس کا فضل اور احسان بھی شامل حال ہو تو ہمیں کبھی ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑتا۔سورۃ فاتحہ میں جس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کی آیت آئی ہے۔ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔اب صراط مستقیم پر چلنا اور اپنے اس عمل کی جزا کی امید رکھنا تو خدا تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے اندر آ جاتا ہے۔لیکن یہ کہ ہم صراط مستقیم پر قائم رہیں اور اس سے ادھر ادھر نہ ہوں۔اس کے لئے ہمیں خدائے رحمان