مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 166

فرموده ۱۹۶۹ء 166 د مشعل راه جلد دوم روحانی آنکھ سے دیکھتا ہے۔جس حد تک کسی کو اس کی استعداد میں آگے بڑھنے کا موقع دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرتا رہتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے جذب کی ضرورت ہے اس کے لئے ہمیں دعا کرتے رہنا چاہئے۔کیونکہ ہم اپنی تدبیر اور کوشش سے جذب الہی کو ٹھیک طرح سے حاصل نہیں کر سکتے۔تدبیر اور دعا دونوں اس کے لئے بڑی ضروری ہیں۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہم محض اپنی تدبیر اور دعا سے اللہ تعالیٰ کی صفات کے یہ جلوے نہیں دیکھ سکتے۔اس کے لئے اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنی پڑتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ میں فانی ہو کر انسان ایک نئی زندگی پاتا ہے جو اس کے جسم پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے ذہن پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے اخلاق اور روحانیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔پس جذب الہی یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب کھینچ کر ہمیں اپنی طرف لے جائے اس کے لئے ہمیشہ کوشش بھی کرنی چاہئے اور تدبیر بھی کرنی چاہئے۔اس کے بغیر ہماری زندگیوں میں توحید خالص قائم نہیں ہوسکتی۔قرآن کریم کا اصل مقصد انسان زندگی میں تو حید کو قائم کرنا ہے اس کی باقی سب تعلیم اس توحید کے قیام کے وسائل اور ذرائع ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔توحید خالص کے قیام کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم کسی انسان کو کسی رنگ میں بھی خدا تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہرائیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ وہ بھی ہمارے جیسے لاشی محض ہیں۔محض اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔پھر ہمیں کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہوسکتی۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے۔اس میں ہمارے لئے سبق ہے۔ہمارے ایک بزرگ تھے۔اللہ تعالیٰ ان کو بغیر حساب اور بغیر ظاہری اسباب کے رزق بہت دیتا تھا اور جو بھی روپیہ پیسہ ان کے پاس آتا وہ اس میں سے اس دن کے لئے اٹھنی یا روپیہ جو انہوں نے اپنے لئے خرچ مقرر کیا ہوتا وہ اپنے پاس رکھ لیتے اور باقی جتنا جلد ممکن ہوتا فوری طور پر سلسلہ کو بھیج دیتے۔جہاں بھی ہوتے منی آرڈر کر وا دیتے یا کسی کو دے دیتے مثلاً انہیں رات کے وقت رقم ملی تو کسی اور کے سپر د کر دیتے کہ دیکھو میں نے تمہیں دے دیا ہے۔ایک دن ان کو یہ خیال آیا کہ اس طرح روز اٹھنی یار و پی رکھ کر باقی منی آرڈر کر دیتا ہوں کیوں نہ زیادہ عرصہ کے لئے رکھ لوں چنا نچہ ایک دن ان کے پاس دو تین سوروپے یا پانچ روپے کی رقم آئی تو ان کو یہ خیال آیا کہ یہ جو میں روز اٹھنی رکھتا ہوں۔ایک ہی بات ہے اگر چھ ماہ کے لئے جو مجھے ضرورت ہے وہ میں رکھ لیتا ہوں اور باقی کا میں منی آرڈر کر دیتا ہوں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ظہر کی نماز پڑھنے گئے۔ان کی یہ عادت تھی کہ فرض نماز کے بعد سنتیں بھی مسجد میں ادا کیا کرتے تھے۔اور پھر وہیں کچھ دیر آرام کرتے تھے۔ان کے ایک دوست نے (جوا کثر وہیں ان کے ساتھ ہوتا تھا ) دیکھا کہ انہوں نے اپنی عادت کے خلاف سنتیں نہیں پڑھیں۔سلام پھیرتے ہی جلدی سے گھر اپنے کمرے کی طرف دوڑے۔ان کے اس دوست کو بڑا عجیب معلوم ہوا کہ انہوں نے آج اپنی عادت کے خلاف یہ بات کیوں کی ہے۔چنانچہ اس نے ان سے پوچھا کہ آج آپ نے خلاف عادت اس طرح کیوں کیا ہے۔وہ کہنے لگے کہ میں آخری سجدہ میں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ آواز آئی کہ "ہن میں چھ مہینے لئی تیرا رب نہیں رہیاں میں یہ سن کر کانپ اٹھا اور