مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 162 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 162

فرموده ۱۹۶۹ء 162 د و مشعل راه جلد دوم بندوں کا حق ہے جسے ادا کرنا تو حید خالص کے قیام کے لئے ضروری ہے۔یہاں بھی اس حق کے دو پہلو ہیں۔ایک یہ کہ انسان اپنے جیسے دوسرے انسانوں کو پہچانے جیسا کہ حقوق اللہ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچانا ضروری تھا ایسا ہی یہاں پر انسان کا دوسرے انسان کو پہچانا ضروری ہے اور انسان کی پہچان اسلام نے یہ بتائی ہے کہ ایک تو تمام بنی نوع انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھے ( یہ اپنے جیسے کی تفصیل آگے آئے گی ) دوسرے یہ کہ تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کا بندہ سمجھے اس سے زیادہ کچھ نہ سمجھے اور تیسرے یہ کہ ہر انسان کو لاشی محض اور پیچ سمجھے۔کیونکہ اس کے اندر اپنی کوئی طاقت اور قوت نہیں ہے اپنے نفس میں وہ کچھ بھی نہیں ہے اس کے اندر جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔اس کا اپنا کچھ نہیں۔جو خدا نے دیا جس طرح اس نے بنایا جو کچھ قوت، طاقت اور استعداداس کے اندر پیدا کی اس پر انسان کی زندگی کا دار ومدار ہے وہ اپنی ذات میں کچھ نہیں۔تمام انسانوں جیسا ایک انسان ہے۔اس سے زیادہ کسی انسان کو کوئی مقام حاصل نہیں۔حقوق العباد کی ادائیگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم انسانی زندگی کے اصل مقصد کے حصول کے لئے یعنی اللہ تعالیٰ کے قرب کا تعلق قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے کے مد و معاون بنیں۔پہلے یہ کہ اس کو کچھ نہ سمجھیں اور دوسرے یہ کہ اپنے اندر غیروں کے لئے خیر خواہی اور ہمدردی کا جذبہ اس وجہ سے پائیں کہ ہم نے ان کا ممدو معاون بنکر ان کو اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں پر چلانا ہے۔یہ حق العباد کا دوسرا پہلو ہے جس کو ہم عملی تو حید کہہ سکتے حق العباد کے ہر دو پہلو یہ ثابت کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے توحید کے ساتھ ان کا تعلق ہے کہ اس Universe (یونیورس) اس عالمین، اس دنیا، اس جہاں کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کو عظمت حاصل اور اس کی عزت قائم ہے۔وہی عظمت اور عزت کا سر چشمہ ہے اور اس کے علاوہ جسے ہم غیر کہتے ہیں۔اس کے اندر کوئی خوبی نہیں ہے کوئی عزت نہیں ہے اس کا کوئی احترام نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کا جو احترام قائم کیا ہے اور جس طرح میں ہوں ( اور میں کی حقیقت آگے تیسرے حق میں بتاؤں گا ) اسی طرح کے یہ بھی انسان ہیں اور محتاج ہیں اس بات کے کہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑیں اور ان راہوں پر ایک دوسرے کی مدد کرتے چلے جائیں جو راہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کی طرف سے جانے والی ہیں۔اس حق کے ہر دو پہلو اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کو ثابت کرتے ہیں کیونکہ اس کا علمی پہلو ہمیں بتاتا ہے کہ وہ نیچ اور لاشی محض ہیں اور عملی پہلو یہ بتاتا ہے کہ ان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ایک قرب کا تعلق قائم کریں اور وہ نہیں کر سکتے تھے جب تک وہ ایک دوسرے کے ممدو معاون نہ ہوں۔تو حید خالص کے قیام کے لئے جو تیسر احق فرض کیا گیا ہے وہ نفس کا حق ہے اور نفس کے حق کے ہی پھر یہی دو پہلو ہیں یعنی ہر ایک کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ نفس ہے کیا چیز : صوفیاء نے کہا ہے۔جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔نفس کو پہچاننے میں پھر آگے دو شقیں نظر آتی ہیں ایک آفات نفس کا جاننا یعنی