مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 160
فرموده ۱۹۶۹ء 160 د دمشعل باراه جلد دوم تمام کمزوریوں اور نقائص سے منزہ ہے اور پھر اپنی ان صفات حسنہ کو اس نے قرآن کریم میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔مثلاً یہ کہ وہ رب ہے۔اس نے ہمیں پیدا کیا بغیر اس کے کہ ہمارا کوئی عمل ہوتا اس نے اپنی حکمت کا ملہ کے ا ماتحت انسان کو پیدا کیا اور پھر اس سے آگے نسل انسانی کا سلسلہ چلایا۔ساتھ ہی اس نے ہمیں بہت سی قو تیں اور طاقتیں اور قابلیتیں عطا کیں یہ قوتیں اور طاقتیں اور یہ استعدادیں ہمارے جسم سے بھی تعلق رکھتی ہیں ہمارے ذہن سے بھی تعلق رکھتی ہیں ہمارے اخلاق سے بھی تعلق رکھتی ہیں ہماری روحانیت سے بھی تعلق رکھتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنیادی طور پر یہ قو تیں اور طاقتیں اور قابلیتیں عطا فرمائیں۔پھر اس رب نے ہم پر اپنا فضل فرماتے ہوئے ہم سے یہ وعدہ فرمایا کہ اگر تم میری طرف آؤ گے تو پھر میں تمہاری جسمانی، ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما اس طرح کروں گا کہ تمہاری انگلی پکڑ کر تمہیں صراط مستقیم پر گامزن کر دوں گا یہاں تک کہ تم اپنے دائرہ استعداد میں یعنی جتنی تمہاری قوت اور استعداد ہے اس کے مطابق تم اپنی نشو و نما کے کمال کو پہنچ جاؤ گے پس اللہتعالی کا یہ وعدہ ہے کہ ہرشخص اگر وہ چاہے تو کمال حاصل کر سکتا ہے اگر چہ ایک دوسرے کے کمال میں اختلاف ہوگا لیکن ہر شخص اپنے اپنے دائرے میں جس قدر ا سے قوت یا طاقت یا استعداد عطا ہوتی ہے اسے بروئے کارلاتے ہوئے ایک کامل انسان بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انسان سے یہ بھی کہا ہے کہ تمہاری جسمانی ، بہن ، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشو ونما کے لئے تجھے اس مادی دنیا میں جس جس چیز کی بھی ضرورت تھی وہ میں نے تمہارے لئے پیدا کر دی ہے۔پھر فرمایا کہ میں نے یہ بھی انتظام کیا ہے کہ جب تم نیک اعمال کرو گے تو اس کی بہترین جزاء میری صفت رحیمیت کے جلوے کے ماتحت مل جائے گی اور جب تم کوشش کرو گے تو تمہاری کوشش کو انتہا تک پہنچانے کے لئے یعنی اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے بھی انتظام کروں گا۔کوشش تو بے شک تم کرو گے اور اس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھو گے لیکن تمہیں خود اپنی کوشش سے وہ سب کچھ نہیں مل سکتا جو کمال کے درجے پر پہنچنے کے لئے ضروری ہوتا ہے اس لئے میں نے تمہارے لئے یہ بھی انتظام کیا ہے کہ میری صفت رحمانیت کے جلوے تم پر ظاہر ہو نگے۔اور بغیر تمہارے کسی عمل اور عمل کے نتیجہ میں جو استحقاق ( جو کوشش اور مجاہدہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اس لئے اس کو ہم استحقاق کہتے ہیں ویسے تو کسی شخص کا اللہ تعالیٰ پر کوئی حق نہیں ہے ) پیدا ہوتا ہے اس کے بغیر بھی میں تمہیں دوں گا۔کیونکہ میں بڑا رحم کرنے والا رب ہوں۔میری رحمتوں نے ہر ایک چیز پر گھیرا ڈالا ہوا ہے۔جس وقت بدلہ دینے کا آخری وقت آئے گا اس وقت میں کسی اور کو یہ نہیں کہونگا کہ وہ بدلہ دے بلکہ میں جو علام الغیوب اور رحمتوں کا سر چشمہ اور منبع ہوں جزا دینے کے کام کو بھی اپنے ہاتھ میں لونگا اور اس کی جزاء میں خود دوں گا۔اور مالک ہونے کی حیثیت سے دونگا۔تمہاری خطائیں ،غفلتیں اور کوتاہیاں معاف کردوں گا اور جو تمہارے اعمال ہونگے ان سے کہیں بڑھ کر ان کی جزاء دوں گا۔کیونکہ میں مالک بھی ہوں جو چاہوں تمہیں دے سکتا ہوں۔میرے خزانے بھرے ہوئے ہیں ان میں کمی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔