مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 154
دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۹ء 154 ہے وہ دوسروں کے انعام Plus ( یعنی جمع ) یہ انعام ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل ہے یہ ایک معمولی سی یا چھوٹی سی نعمت نہیں ہے اس لئے آپ کو اپنی ذمہ درایوں کو نباہنا چاہیے۔اپنے ماحول کو پاک کرنا چاہیئے۔قرآن کریم کی خوبیاں قرآن کریم کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے پیٹھ پیچھے پھینک دیا جائے۔اس میں اس قدر علوم ہیں خزانے بھرے ہوئے ہیں کہ ہماری اخلاق کی صفائی کے لئے ہماری ذہنی نشو ونما کے لئے ہماری جسمانی قوتوں کو بحال رکھنے کے لئے اور ہر بداخلاقی سے بچنے کے لئے تعلیم دی گئی ہے۔غرض قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس میں جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی فوائد رکھ دیئے گئے ہیں۔مثلاً یہ شراب ہے اس کے متعلق صرف یہ نہیں کہا کہ اس کا پینا گناہ ہے بلکہ ساتھ ہی اس کی مضرت بھی بتائی گئی ہے کہ انسانی جسم پر اس کا بہت برا اثر پڑتا ہے اسی طرح سور کا گوشت ہے اس کے متعلق بھی بتایا ہے کہ اس کے کھانے کے یہ یہ نقصانات ہیں۔اس طرح مثلاً غیبت کرنا ہے غیبت کا اثر صرف اخلاق ہی پر نہیں بلکہ انسان کی جسمانی زندگی پر بھی پڑتا ہے اور اگر یہ عادت طالب علموں میں پیدا ہو جائے تو وہ دو گھنٹے پڑھنے کی بجائے یہ وقت ایک دوسرے کی غیبت کرنے میں گزار دیتے ہیں اور اس طرح ان کا وقت ضائع ہوتا ہے تعلیم حرج ہوتی ہے دنیوی زندگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔میں نے کئی ایسے طالب علموں کو جو اس طرح کی بہت سی بد عادتوں کی وجہ سے اپنا وقت ضائع کرتے ہیں انہیں بلا کر سمجھایا کرتا ہوں کہ پڑھائی کی طرف توجہ کرنے سے تمہارا اپنا فائدہ ہے۔البتہ وقتی طور پر تمہارے پاس کچھ بھی خوشی ہوگی مگر اصل فائدہ تو تمہیں پہنچے گانہ کہ مجھے نہ تمہارے والد کو کیونکہ میں نے تم سے کوئی چیز تو نہیں مانگی تم نے اپنی زندگی بنانی ہے۔اس سے تمہارے ماں باپ بھی خوش ہوں گے کہ بیٹا علم کے میدان میں ترقی کر کے آگے نکل کر دنیوی لحاظ سے بھی ترقی کر گیا۔لیکن اس تعلیم کا اصل فائدہ تمہاری ذات کو پہنچتا ہے۔اس لئے اپنی ذات پر ظلم نہ کرو۔جتنی باتوں سے ہمیں روکا گیا ہے ان کا اثر پڑھائی پر بھی لازماً پڑتا ہے۔مثلاً ایک بدظنی ہی کو لے لیجئے اس کا بھی پڑھائی پر بُرا اثر پڑتا ہے۔مثلاً ایک طالب علم اپنے دماغ میں یہ سوچتا ہے کہ یہ بات میرے خلاف فلاں طالب علم نے کہی ہوگی۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اس کا دماغ کھولتا رہتا ہے اور سوچتا ہے کہ میں بھی اس سے بدلہ لے کر چھوڑ ونگا پس اس غصے کی وجہ سے اس کا قیمتی وقت ضائع ہوتا رہتا ہے۔اسی طرح بدظنی کا عام دنیوی زندگی پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔غموں کے باجود بشاشت قائم رہنی چاہیئے پس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کریں۔کیونکہ یہ تعلیم ہماری جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی Normal Development کی ضامن ہے۔اس سے کوئی