مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 142 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 142

فرموده ۱۹۶۹ء 142 د دمشعل را س راه جلد دوم ایک آدمی کے دل میں بھی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتے۔مگر اسلام نے آ کر کروڑوں کروڑ دلوں کے اندر تبدیلی پیدا کردی۔پس مذہب کا تعلق تو دل کے ساتھ ہے اور دلوں کو ہم جیتیں گے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جیت رہے ہیں بڑے مخلص اور بہت جو شیلے اور فدائی احمدی مسلمان وہاں پیدا ہورہے ہیں۔اسی واسطے یہاں جوستی اور غفلت اور کچھ اونگھنا وغیرہ سامنے آتا ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔وہاں جو طالب علم ہیں ان کی ذمہ داریاں علم سیکھنے کے لحاظ سے آپ ہی کی طرح ہیں۔ذمہ داریوں کی قسم تو ایک جیسی ہے لیکن ذمہ داری کا احساس ان میں زیادہ ہے اس لئے کہ وہ بہت زیادہ محنت کرتے ہیں۔آکسفورڈ میں پڑھائی کے سلسلہ میں عام مقولہ یہ ہے کہ جو طالب علم روزانہ پڑھائی کی اوسط ( کلاس روم کے علاوہ) گیارہ بارہ گھنٹے کی بناتا ہے وہ ہوشیار طالب علم سمجھا جاتا ہے اور جو طالب علم آٹھ گھنٹے کی اوسط بنارہا ہے وہ متوسط درجہ کا طالب علم خیال کیا جاتا ہے اور جو طالب علم کلاس روم کے علاوہ صرف چار پانچ گھنٹے پڑھائی کرتا ہے اس سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کیونکہ وہ اسے بڑا نالائق سمجھتے ہیں۔میرے خیال میں اگر میں آپ میں سے کسی سے پوچھوں تو شاید ہی کوئی طالب علم ہو جو یہ کہے کہ وہ روزانہ ( کلاس روم کے علاوہ) تین چار گھنٹے پڑھتا ہے۔پس ذمہ داری تو ایک جیسی ہے لیکن اس ذمہ داری کا بوجھ وہاں کے طالب علم پر بہت زیادہ ہے۔کیونکہ وہاں کا ماحول تو ایسا ہے کہ اگر کوئی طالب علم چار پانچ گھنٹے پڑھنے والا ہے تو یا تو وہ فیل ہو جائے گا یا تھوڑی ڈویژن لے گا۔بعض جگہ ڈویژن ہی نہیں ہوتی صرف پوزیشن بتا دیتے ہیں۔مگر ایسے طالب علم کی ان کی سوسائٹی میں جود نیوی علم کے لحاظ سے بدرجہا بڑھ گئی ہے کوئی قدر نہیں ہوتی۔پس وہاں کے طالب علم کا یہ حال ہے مثلا فرینکفورٹ میں ہمارا محمود ہے وہ یو نیورسٹی کا طالب علم ہے اس کا حال یہ تھا کہ جس وقت وہ مسلمان ہوا تو اس کے دل میں قرآن کریم کی شدید محبت پیدا ہوگئی اور اس کے دماغ نے کہا کہ صرف مسلمان ہو جانا تو ایک بے معنی چیز ہے قرآن کریم سیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔چنانچہ اس نے جرمن ترجمہ قرآن کریم خود پڑھنا شروع کیا اور ہمارے مبلغ نے بتایا کہ بسا اوقات رات کے ایک بجے اس کا فون آجاتا ہے کہ میں نے اپنے کام سے فارغ ہو کر قرآن کریم پڑھنا شروع کیا اور فلاں آیت پر آ کر رک گیا ہوں اور مجھے سمجھ نہیں آرہی مجھے اس کا مطلب بتا ئیں ورنہ میں رات کو سو بھی نہیں سکوں گا۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ آپ کا مقابلہ ہے۔آپ کو ان سے آگے نکلنا چاہیے کیونکہ قرآن کریم کے سیکھنے سکھانے کی آپ کو بہت زیادہ سہولیتیں میسر ہیں۔وعظ ونصیحت بھی اُن سے کہیں زیادہ آپ کے کانوں میں پڑتی ہے اور ان کے راستے میں روکیں بھی آپ سے زیادہ ہیں۔انہیں دس بارہ گھنٹے روزانہ پڑھ کر علم کے میدان میں اپنا نام پیدا کرنا ہوتا ہے۔پھر ساتھ ہی ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ محبت پیدا کر دی کہ وہ قرآنی علوم بھی سیکھیں اور وہ علی وجہ البصیرت اسلام پر قائم ہوں یہ نہیں کہ بیعت فارم پر کرایا اور مسلمان ہو گئے احمدی ہو گئے۔