مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 141
141 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم ہے۔جس مذہب کو اللہ تعالیٰ نے اتنے زبر دست دلائل دیئے ہیں۔اتنی حسین تعلیم دی ہو۔اتنے اچھے اخلاق پیدا کئے ہوں۔اسے تلوار کی ضرورت ہی نہیں۔لیکن اسلام کے بزور تلوار پھیلنے کا زبردست پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔میں جب یورپ کے دورے پر گیا تو میں نے دیکھا کہ اس پروپیگنڈہ کا اثر ان کے دماغ پر بہت زیادہ ہے یعنی یہ کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔حالانکہ یورپ کے ممالک عام طور پر عیسائیت کو چھوڑ رہے ہیں۔عیسائیت کے نام کا ایک لیبل لگا رکھا ہے لیکن عیسائیت کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں رہی حضرت مسیح علیہ اسلام کے ساتھ ایک وقت میں جو غلو کی حد تک محبت کرتے تھے اب یہ بھی ختم ہوگئی ہے۔اب تو شاید آپ کو انسان بھی نہیں سمجھتے حالانکہ پہلے خدا بنارکھا تھا۔مگر اس پروپیگنڈہ سے وہ شدید متاثر ہیں۔چنانچہ دو جگہ پر یس کا نفرنس میں مجھ پر یہ سوال کیا گیا کہ آپ ہمارے ملک میں اسلام کو کیسے پھیلائیں گے۔سوال کرنے والے نے تو یہ سوال بڑے ادب سے کیا لیکن ان کی دماغی کیفیت کا مجھے علم تھا۔میرے ذہن نے فوراً اس سوال کا تجزیہ کیا کہ دراصل سوال اسلام کے بزور شمشیر پھیلائے جانے کا ہے۔یعنی سوال ان کا یہ ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا جاتا ہے۔ہم نے تلوار تمہارے سے چھین لی ہے اور اب اس کی ضرورت بھی باقی نہیں رہنے دی کیونکہ ایٹم بم بنالئے ہیں۔پس طاقت تو تمہارے پاس ہے نہیں۔اسلام طاقت کے بغیر پھیل نہیں سکتا اس لئے تم ہمارے ملک میں اسلام کو کیونکر پھیلاؤ گے اور جب میرے منہ سے یہ بے تکلفانہ جواب سنا کہ ہم تمہارے دل جیتیں گے اور اسلام کو پھیلا ئینگے تو یہ ان کے لئے ایک ایسا عجوبہ تھا اور ایک قسم کا صدمہ اور شاق تھا کہ ایک جگہ تو ۲۵ ۳۰ صحافی یہ جواب سن کر قریب ڈیڑھ منٹ تک خاموش رہے کہ یہ کیا جواب ملا ہے کیونکہ ان کے دماغ تو یہ سوچ رہے تھے کہ میں یہ کہوں گا کہ تم نے ایٹم بم بنایا ہے تو ہم بھی ایٹم بم بنائیں گے اور پھر اس کے زور سے اسلام کو تمہارے ملک میں پھیلائیں گے۔ان کے دماغ میں تو یہ تصور تھا۔جواب انہوں نے یہ سن لیا۔ایک دوسرے موقعہ پر ایک صحافیہ جو دھیڑ عمر کی تھی اور چپ کر کے ایک طرف بیٹھی ہوئی تھی جس وقت یہ سوال ہوا اور میں نے اس کا یہ جواب دیا تو اس وقت وہ بھی بول اُٹھی کہ آپ ان دلوں کو لے کر کیا کریں گے۔یہ ایک عجیب سوال تھا اور پھر ایک عورت کے منہ سے نکلا ہوا۔میں نے اسی وقت جواب دیا۔اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہوتا ہے انسان تو بڑا کمزور ہے۔میں نے اسے یہ جواب دیا کہ جو تمہارا اور میرا پیدا کرنے والا رب ہے اس کے قدموں میں جا کر رکھ دوں گا۔- چنانچہ میرے ان جوابات سے ان پر ایک عجیب اثر ہوتا تھا کہ ہم نے سنا کچھ اور تھا۔عیسائیوں نے پروپیگنڈہ کچھ اور کیا ہوا تھا۔پتہ نہیں یہ کہاں سے آگئے ہیں کہ اس قسم کی باتیں کر رہے ہیں۔دراصل دل جیت کر احمدی ہی ہوتے ہیں اور عقیدہ یا مذہب کا تعلق تو دراصل دل کے ساتھ ہے چنانچہ پھر میں اس بات کو ان کے سامنے Explain(یعنی تشریح) کرتا تھا کہ دیکھو تم نے بڑے ایٹم بم بنالئے ہیں اور تم نے دُنیا میں ہلاکت کے سامان پیدا کر لیے ہیں اور اگر تم چاہو تو بے شمر مخلوق کو تباہ کر سکتے ہو لیکن تمہارے یہ سارے کے سارے ایٹم بم کسی