مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 129
129 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم ہے ) وہ اپنی ذمہ داری کو نباہ رہے ہیں یا نہیں۔اگر وہ اپنی ذمہ داری کو نباہ نہیں رہے تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اس ذمہ داری کو نبا ہیں اور مستورات اور ناصرات کو پڑھانا شروع کر دیں اور اس کی اطلاع مرکز میں ہونی چاہئے۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم پوری طاقت کے ساتھ پوری ہمت کے ساتھ اور انتہائی کوشش کے ساتھ تعلیم القرآن کے اس دوسرے دور میں داخل ہوں اور خدا کرے کہ کامیابی کے ساتھ (جہاں تک موجودہ احمدیوں کا تعلق ہے ) اس سے باہر نکلیں۔ویسے یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ نئے بچے، نئے افراد بنتی جماعتیں اور نئی قو میں اسلام میں داخل ہوں گی اور اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا۔تو ساری دنیا کا معلم بننے کی تربیت آپ ہی کو حاصل کرنی چاہئے۔خدا جانے آپ میں سے کس کو یہ توفیق ملے کہ وہ ساری دنیا میں تعلیم القرآن کی کلاسیں کھولنے کا کام کرے لیکن اگر ہم آج تیاری نہ کریں تو اس وقت اس ذمہ داری کو جو اس وقت کی ذمہ داری ہوگی ہم نباہ نہیں سکیں گے۔غرض موصیوں کی تنظیم بھی اور انصار اللہ کی تنظیم بھی اور خدام الاحمدیہ کی تنظیم بھی اور لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کی تنظیم بھی اس طرف پورے اخلاص اور جوش اور ہمت کے ساتھ متوجہ ہو جائیں اور کوشش کریں کہ جلد سے جلد ہم اپنے ابتدائی کام کو پورا کرلیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے تفسیر القرآن تو نہ ختم ہونے والا کام ہے وہ تو جاری رہے گا۔اس سلسلہ میں میں سمجھتا ہوں کہ جن دوستوں کے پاس تفسیر صغیر نہیں ہے انہیں تفسیر صغیر خرید لینی چاہئے کیونکہ وہ ترجمہ بھی ہے اور مختصر تفسیری نوٹ بھی اس میں ہیں۔عام سمجھ کا آدمی بھی بہت سی جگہوں میں صحیح حل تلاش کر لیتا ہے جو اس کے بغیر اس کے لئے مبہم رہیں۔جماعتی تنظیم کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم القرآن کے کام کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے نیز وہ یہ دیکھے کہ انصار الله ، موصیان ، خدام، لجنہ اور ناصرات کے سپر د جو کام کیا گیا ہے وہ ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آخری تین چار منٹ سے ضعف کی وجہ سے مجھے چکر آ رہے ہیں کھڑا ہونا بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے اور صحت عطا فرمائے۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۰ را پریل ۱۹۶۹ء)