مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 9
9 فرموده ۱۹۶۶ء دومشعل راه جلد دوم مجلس خدام الاحم یہ مرکز یہ کی تیرہویں تربیتی کلاس کے افتتاحی اجلاس میں سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا خطاب نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر کام سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا چاہیئے۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتے ہوئے۔اس سے دعا مانگتے ہوئے کہ وہ ہمارے اس کام میں برکت ڈالے اور اللہ اس کا نیک نتیجہ نکالے۔کام کو شروع کرنا چاہیئے۔اس لئے میں بھی اس کلاس کا افتتاح بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرتا ہوں۔بسم اللہ الرحمن الرحیم کے معنے یہ ہیں۔کہ ہم یہ کام شروع کر رہے ہیں اور اسے شروع کرنے سے قبل اللہ تعالیٰ کی مدد چاہتے ہیں جو تمام صفات کا ملہ وحسنہ اپنے اندر رکھتا ہے۔اور جس کے اندر کوئی نقص، قصور کو تا ہی، کمی اور کمزوری متصور نہیں ہو سکتی۔خصوصاً ہم خدا تعالیٰ کو اس کی دوصفات کا واسطہ دیتے ہیں ایک اس کی صفت رحمانیت کا اور دوسرے اس کی صفت رحیمیت کا۔رحمان کے معنے یہ ہیں کہ بغیر ہمارے کسی عمل کے وہ ہم پر انعام کرتا ہے جیسا کہ اس نے ہماری پیدائش سے قبل بلکہ بنی نوع انسان کی پیدائش سے بھی قبل ان گنت اور بے شمار چیزیں پیدا کیں تاجب انسان اس دنیا میں پیدا کیا جائے تو وہ ان سے فائدہ اٹھانے والا ہو۔اب وہ اشیاء جو میری، آپ کی اور ہر انسان کی پیدائش سے ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں سال پہلے سے پیدا کی گئی ہیں کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچائیں۔ان کے متعلق کوئی عقل بھی یہ تصور نہیں کر سکتی۔کہ اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو ہمارے کسی عمل کے نتیجہ میں پیدا کیا تھا۔کیونکہ اس وقت نہ ہم تھے اور یہ نہ ہمارا عمل تھا اور خدا تعالیٰ نے ان اشیاء کو پیدا کر دیا تھا۔پھر خدا تعالیٰ کا یہ فعل صرف ماضی کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتا۔بلکہ اگر ہم سوچیں، غور کریں اور تدبر سے کام لیں۔تو ہمیں یہ نظر آتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ کی یہ صفت (یعنی رحمان ) ہر آن ہماری حفاظت کر رہی ہے۔یہ ہر آن ہمیں بہت سے دکھوں اور پریشانیوں سے بچارہی ہے۔قطع نظر اس کے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی ان نعمتوں کے حصول کے لئے کوئی کام کیا ہے یا نہیں کیا۔سائنس نے اس زمانہ میں بہت زیادہ ترقی کر لی ہے اور منجملہ ان علوم کے جو انسان نے حاصل کئے ہیں ایک بڑا دلچسپ علم یہ بھی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ہر لحظہ ہزاروں خطرات میں سے گزرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جوش میں نہ آئے۔تو ان ہزاروں خطرات میں سے کوئی ایک خطرہ بھی ہمارے لئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔غرض ہر آن ہم ہزاروں خطرات میں سے گزر رہے ہیں اور ہر آن خدائے رحمان کی ہزاروں تجلیاں ہماری حفاظت کے لئے ہورہی ہیں۔رحیم کے معنے ہیں ہمارا وہ رب جو ہماری ان محنتوں اور اعمال کو ضائع نہیں کرتا