مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 113
113 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد میں انسان القومی بن جاتا ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ نے بتایاہے کہ تم اس معنی میں بھی القوی بنے کی کوشش کرو۔آپ میں سے ایک حصہ تو ابھی طالب علم ہے۔کمانے والا نہیں لیکن ایک حصہ ( اور میرے خیال میں وہ کافی بڑا حصہ ہے ) ایسا ہے جو کمانے والا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو کہتا ہے کہ خارجی سامانوں کے لحاظ سے بھی القومی بنیں تب آپ میرے محبوب بنیں گے۔اور وہ اس معنی میں القوی بنیں کہ جو کمائیں حلال کمائیں اور جب خرچ کریں تو صراط حمید کا خیال رکھیں یعنی ان راہوں پر خرچ کریں جو میری نگاہ میں پسندیدہ ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صحت ہو یعنی جسمانی توانائی اور قوت ہو۔دل مضبوط ہو اور پھر خارجی قوت بھی ہو اور قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے کہ یہ تینوں چیزیں خدا تعالیٰ سے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں۔کیونکہ فرمایا اَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ( البقرة: ١٦٦ ) اور اور قوت اور قدرت کا سر چشمہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اور ایک اور جگہ فرمایا کہ جب تم اپنے کھیت میں جاؤ تو یہ دعا کرو۔مَا شَاءَ اللهُ - لَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ (الكهف : ٤٠) یعنی تمام طاقت اور قدرت اللہ تعالیٰ ہی سے حاصل کی جاسکتی ہے اور ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہے اور اس کا ارادہ ہو۔اگر چہ اس آیت میں باغوں کا ذکر ہے لیکن قرآن کریم ہمیں اصولی تعلیم دیتا ہے اس لئے ہم اصولی لحاظ سے اس کے یہ معنی کریں گے کہ جب بھی تم کسی ذریعہ آمد سے آمد کے حصول کی کوشش کرو تو اس بات کو یا درکھو کہ ہر قسم کی قوت ، قدرت اور طاقت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور ہوتا وہی ہے (ماشاء اللہ ) جو خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔اس لیئے اس کے حضور جھکو اور اس سے عاجزانہ دعائیں کرو کہ وہ اپنی قوت کا سہارا تمہیں دے اور اپنی طاقت کے جلوے تمہیں دکھائے اور پھر تمہیں اپنی اور صفات کے علاوہ ان دونوں صفات کا مظہر بننے کی توفیق عطا کرے غرض اس معنی میں خدام کو القومی بننا چاہئیے۔میں نے بتایا ہے کہ خادم کی دو صفات ہوتی ہیں۔۱۔القوی ۲۔الا مین اور آپ کا سارا پروگرام ان دوصفات کے گردگھومتا ہے۔القوی پر میں نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔الا مین کے معنی صرف یہ نہیں کہ کسی نے آپ کے پاس کوئی امانت رکھی اور آپ نے اس میں خیانت کئے بغیر اسے واپس لوٹا دیا۔اس بات کے لئے بلندی اخلاق کی زیادہ ضرورت نہیں۔عام شریف آدمی خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں اس قسم کی خصلتیں اپنے اندر رکھتے ہیں۔کوئی خبیث الفطرت ہی ایسا ہوگا جو امانت میں خیانت کرتا ہو لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تم الامین یعنی صاحب امانت یا امانت دار بنو گے تو میرے خادم کہلاؤ گے ورنہ میں اپنے خدمت گزاروں کی فہرست سے تمہارا نام کاٹ دوں گا۔اس دنیا کی فہرست میں اپنا نام خادم لکھا کر تو ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔ہمیں تو تبھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور بھی خوشی پہنچی سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فہرست میں بھی ہمارا نام خدام میں شامل ہو۔اگر ہمارا نام خدا تعالیٰ کی فہرست میں بطور خادم درج نہیں تو پھر جہاں