مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 88
دومشعل ن راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۸ء 88 آٹھویں، نویں ، دسویں یا گیارہویں، بارہویں، تیرھویں کلاس میں پڑھ رہے ہیں ان کے دلوں میں یہ بات پختگی سے قائم ہو جائے کہ اپنی عمر کے لحاظ سے جو اسلامی ذمہ داریاں ہم پر پڑتی رہیں گی ہم ان کو بجالائیں گے اور ان کے بجالانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔یع ملی کمزوری بڑے بھیانک نتائج پر منتج ہوتی ہے۔یعنی جب ہم اچھے عقائد کو دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہوں لیکن اس کے مطابق اچھا عمل دنیا کے سامنے پیش نہ کریں تو دنیا ہمیں یہ کہے گی اور اب بھی کہتی ہے (جہاں جہاں جماعتوں میں کمزوری ہے) کہ ہم احمدی بن کر کیا کریں۔تمہارے عقائد اچھے سہی۔صحیح سہی۔قرآن کے مطابق سہی لیکن جب تمہارے اندر وہ عملی نمونہ نہیں۔جب تم نے اسلام کے مطابق زندگیاں نہیں گزارنی۔جب تمہارے چہروں پر اسلام کی روشنی نہیں جب مخلوق کے ساتھ تمہارا سلوک وہ نہیں جس کا تم دعوی کرتے ہو کہ اسلام اس کی تعلیم دیتا ہے تو پھر نہیں احمدیت میں داخل ہو کر کیا فائدہ حاصل ہوگا۔اور بات ان کی معقول ہے۔اس کا جواب ہم میں سے کوئی بھی نہیں دے سکتا۔سو آج میں آپ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔کہ آپ خود جب گھروں کو واپس جائیں۔تو اپنے گھروں میں تمام بچوں کو اور تمام خدام کو خصوصاً اور تمام جماعت کو عموماً میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ اپنے اعمال کو درست کرنے کی فکر کرو کہ تمہارے عقائد کے نتیجہ میں تمہاری بہشت کے جو درخت ہیں وہ تر و تازہ نہیں رہ سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس دنیا کے اچھے عقائد درختوں کی شکل اس دنیا میں اختیار کریں گے اور ان درختوں کو ترو تازہ رکھنے کیلئے اور پھل دار بنانے کیلئے اعمال صالحہ کا پانی انہیں دیا جائے گا۔پس جس شخص کا ایک اچھا باغ ہو۔بڑی محنت اس نے اس پر کی ہو اس لحاظ سے کہ اچھے درخت اس میں لگائے ہوں اور کھا د بھی اس نے پوری دی ہو لیکن اگر وہ ان کو پانی نہیں دیتا اور اپنے باغ کو خشک رکھتا ہے تو اس کے عقائد کے جو درخت ہیں وہ خشک ہو جائیں گے۔ان کے پتے سوکھ جائیں گے اور ان درختوں کو پھل نہیں آئے گا۔پس بڑا ہی بیوقوف وہ شخص سمجھا جائے گا جس نے بڑا روپیہ خرچ کر کے اور محنت کر کے اور محنت سے ایک باغ لگایا لیکن وقت پر اس کو پانی نہ دیا اور اسے سو کھنے دیا۔اور اس سے جو فائدہ وہ حاصل کر سکتا تھا وہ اُسے نہیں ہوا۔اگر آپ کوئی ایسا باغ دیکھیں تو آپ میں سے ہر شخص یہی کہے گا کہ اس باغ کا مالک کوئی مجنون ہے جس نے اپنا روپیہ ضائع کیا اور جس نے اپنی غفلت اور عملی کو تاہی کے نتیجہ میں خود اور اپنے خاندان کو اس شمر سے، اس پھل سے محروم کر دیا۔جو اس کا حق بنتا تھا۔اس عطا سے محروم کر دیا جو اس اللہ تعالیٰ اسے دینا چاہتا تھا۔میں نے غور کیا ہے اور اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اعمال صالحہ کی بنیاد اعتقادات صحیحہ پر نہیں بلکہ اسلام کے اوپر ہے اور اسلام کے معنی یہ ہیں کہ انسانوں کی روح میں ایک ایسا تغیر پیدا ہو کہ وہ اپنے مالک حقیقی اپنے خالق حقیقی اپنے رحمان و رحیم اور مالک یوم الدین کو پہچاننے لگے اور اپنے اللہ کا صحیح عرفان حاصل کرے اور پھر یہ حقیقت اسے اچھی طرح سمجھ میں آجائے کہ میرا سارا وجود اور میری ساری کوششیں اور میرے سارے اعمال اور میری جان اور میری عزت سب کچھ اس اللہ پر قربان ہے اور ہر وقت اس کی گردن اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے