مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 84 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 84

الله فرمودہ ۱۹۶۷ء 84 د دمشعل را مل راه جلد دوم جیسے نجران کا ایک وفد جو نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا۔گفتگو کے دوران ان کی عبادت کا وقت ہو گیا۔آپ نے فرمایا تم یہاں اس مسجد میں عبادت کرو۔بعض صحابہ کو یہ بات بری لگی کہ نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں یہ عیسائی عبادت کریں گے۔جب آپ کو پتہ لگا تو آپ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور آپ نے فرمایا۔یہ ٹھیک نہیں۔اسلام کی تعلیم ہے اس پر عمل ہونا چاہیئے۔اس احسان کا یہ اثر ہوا مذہبی جذبات کی حفاظت کی گئی ہے اس اعلان میں ) کہ وہاں کے بہت سے عیسائی ہمارے ساتھ نماز میں اور دعا میں شامل ہو جاتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ انہوں نے یہ کہہ دیا ہے کہ اَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللهِ اَحَدًا به خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔جو موحد یہاں آکر عبادت کرنا چاہے وہ آئے اور اپنی عبادت کرے۔جو شخص ایک خدا کی عبادت کرنا چاہتا ہے تو بیشک یہاں آکر عبادت کرے۔اور چونکہ یہ لوگ ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں اور چونکہ ہم بھی ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں اس لئے کوئی حرج نہیں کہ ہم بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں۔وہ لوگ با قاعدہ رکوع وسجود میں ہمارے ساتھ شامل تھے ویسے سر جھکا کر دعا کے وقت تو سارے ہی شامل ہو جاتے تھے۔غرض مذہبی جذبات سب سے زیادہ نازک ہوتے ہیں۔بڑی جلدی انہیں ٹھیس لگ جاتی ہے۔غرض دیکھو قرآن کریم نے جذبات کا اتنا خیال رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ بنی نوع انسان پر اتنے احسان کئے ہیں کہ دنیا کے سارے فلسفی مل کر بھی ایسی کوئی راہ تلاش نہیں کر سکتے جو اس سے بڑھ کر دنیا پر احسان کرنے والی ہو۔لیکن آج ایک ہندو، آج ایک عیسائی ، آج ایک سکھ ، آج ایک دہریہ، آج ایک لا مذہب، آج ایک بد مذہب ہم سے یہ پوچھتا ہے کہ تعلیم تو اسلام کی ٹھیک ہے لیکن کہاں ہیں اس پر عمل کرنے والے۔ہمیں کوئی عملی نمونہ دکھاؤ اور سوائے آپ کے عملی نمونہ دکھانے کے قابل آج کوئی نہیں ہے۔اگر آپ آج سستی دکھا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ کا بڑا غضب آپ پر نازل ہوگا۔اور یہ یاد رکھیں کہ خالی بیعت کافی نہیں ہے۔اتنے احسان کرنے والے نبی سے ہم کیوں دور رہیں۔پس یہ ایک ذمہ داری ہے جس کی طرف ہمارے بڑوں اور چھوٹوں ، مردوں اور عورتوں کو توجہ دینی چاہیئے اور پوری توجہ کے ساتھ اور پوری کوشش کے ساتھ اور پوری قربانی کے ساتھ اسلام کا عملی نمونہ دنیا میں پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اگر ہم ایسا کرنے میں آج کا میاب ہوجائیں تو میں یقین سے آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں انقلاب عظیم اتنا جلدی پیدا ہوگا کہ دنیا کے مورخ اس واقعہ پر ہزاروں سال حیرانی کا اظہار کرتے جائیں گے۔دیکھنے والے دیکھیں گے کہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی جس نے خدا سے بڑا پیار کیا اور اپنے خدا کے اخلاق میں وہ رنگے گئے اور قرآن کریم کا نمونہ انہوں نے دنیا کے سامنے رکھا۔تب یہ ایک انقلاب عظیم دنیا ہو گیا۔روس میں ریت کے ذروں کی طرح احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ روس میں ریت کے ذروں کی طرح احمدی