مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 77 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 77

77 فرمودہ ۱۹۶۷ء «مشعل راه جلد دوم مقابلہ میں ہمیں ملنے والے ہیں وہ اس زندگی سے اور اس زندگی کے سب کچھ سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ روح بغیر جسم کے کام نہیں کر سکتی۔ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی زندگیوں کو، اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں قربان کیا تو یہی مطلب ہوتا ہے کہ اس مشت خاک کو ہم نے خدا تعالیٰ کے وعدوں پر رکھا۔لیکن اس مشت خاک کی قیمت ہی کیا ہے۔اس جسم جتنے وزنی مٹی کے ڈھیر ہزاروں لاکھوں گدھے ہمارے ملک میں اپنی پیٹھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ہم اس جسم کی قربانی دیتے ہیں اور انعاموں کو چھوڑ و۔جو جسم اس جسم کے مقابلہ میں ہمیں بطور انعام ملتا ہے وہ اس سے زیادہ بہتر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفصیلاً فرمایا ہے کہ اس جسم کے بعد ہماری روح کو دو جسم ملتے ہیں۔ایک زمانہ برزخ کا جسم جو اس جسم سے بہتر ہوتا ہے اور ایک جنت کا جسم جو اس جسم سے بھی بہتر ہوتا ہے اور جب وہ جسم ہماری روح کو دیا جاتا ہے تو ہماری روح ان لذتوں کو محسوس کرتی ہے اور مشاہدہ کرتی ہے جو لذتیں اور سرور اللہ تعالیٰ اس زندگی میں انسان کیلئے پیدا کرتا ہے۔روح بغیر جسم کے نہ کوئی کام کر سکتی ہے اور نہ کوئی لذت اور سرور محسوس کر سکتی ہے۔اور اس جسم کا قربانی کے نتیجہ میں ایک بڑا اچھا جسم ہمیں مل جاتا ہے۔اس کے علاوہ خدا تعالیٰ کی جو نعمتیں ہوتی ہیں ان کا کوئی شمار ہی نہیں۔غرض ہر احمدی کے دل میں یہ یقین ہونا چاہیئے کہ ہماری روح ہلاک ہونے والی نہیں اور ہماری فطرت میں شکست کا خمیر نہیں ہے۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ دنیا ہمیں شکست دے دے۔ہم بہر حال کامیاب ہوں گے اور ہمارے اندر یہ یقین پیدا ہونا چاہیئے اور اس کے مطابق ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا ہونا چاہیئے کہ ہم نے اپنے رب کی راہ میں ہر قسم کی قربانی دے دینی ہے اور ہر قسم کی قربانی دینے کے بعد ہم نے یہ سمجھنا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا کیونکہ قربانی دینا بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر ممکن نہیں۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اتنا بڑا دعویٰ کیا کہ دنیا کہ میرے ساتھ شامل ہو یا نہ ہو۔مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ میں ساری دنیا میں اسلام کو غالب کر دوں تو اس وقت حقیقتا آپ کے ساتھ کوئی دنیا نہیں تھی۔ایک آواز تھی جو اٹھی اور اس آواز کو سننے والا کوئی نہیں تھا آپ کی اپنی آواز تھی اور آپ ہی اس کو سن رہے تھے۔پھر چند آدمی آپ کے ساتھ ہو گئے پھر وہ آدمی ہزاروں ہو گئے پھر وہ پنجاب اور ہندوستان کے مختلف شہروں میں پھیلے اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں احمدی پائے جاتے ہیں۔(دنیا کے ہر ملک میں قریباً) اور وثوق کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جماعت احمدیہ پر سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔یہ تو خیر ایک پرانا محاورہ ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتر ایکسپریشن (Expression) میں زیادہ اور شوکت میں بڑھی ہوئی جماعت پر طلوع ہوتا ہے۔کوئی ایک دن ایسا نہیں کہ جماعت ہر لحاظ سے ترقی نہ کر چکی ہو۔یہ ترقی سال کے بعد ایک نمایاں شکل میں ہمارے سامنے آتی ہے۔لیکن میں جو سینکڑوں خطوط روزانہ پڑھتا ہوں میں جانتا ہوں کہ ہر روز دنیا کے مختلف حصوں میں جماعت بڑھ رہی ہے۔بعض دفعہ یہاں سے سات آٹھ ہزار میل سے مجھے ایک خط آتا ہے اور اس خط کے اندر چھپیں بیعتیں ہوتی