مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 587 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 587

587 فرموده ۱۹۸۲ء د و مشعل راه جلد دوم دد قرآن عظیم کو زبانی یاد کر لیا حفاظ کہلائے جاتے ہیں۔تو حفظ کیا انہوں نے قرآن کریم۔اور اگر یہ حجم کے لحاظ سے سے بڑی ہوتی تو اس کو حفظ کرنا آسان نہ ہوتا۔اگر یہ اپنی تربیت کے لحاظ سے اس سے مختلف ہوتی جو ہمیں نظر آتی ہے تب بھی یاد نہ ہو سکتی۔مثلاً اگر کوئی بچہ قرآن کریم کا ایک صفحہ یاد کرنے پر جتنا وقت خرچ کرتا ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر اس سے دس گناہ زیادہ وقت بائیبل کے ایک صفحے کو یاد کرنے پر خرچ کرے تو بائیل کا ایک صفحہ یاد نہیں ہو سکے گا۔کیونکہ ترتیب ہی ایسی ہے۔کہ انسان کا دماغ اپنے حافظہ میں اسے محفوظ کرنے سے عاجز آ جاتا ہے۔کوئی حسن اور ترتیب الفاظ کے لحاظ سے اور (جن کو معانی آتے ہیں ) معانی کے لحاظ سے نہیں پائی جاتی اس قسم کی که انسان آسانی سے اسے یادکر سکے۔اس چھوٹی سی کتاب میں انسان کی ساری ضرورتیں ہر نسل انسانی کی ہر ضرورت قیامت تک کے لئے جو تھی وہ پوری کر دی گئی اور ہر روح جو بعثت نبوی ﷺ سے لے کر قیامت تک انسانی جسم میں پیدا کی گئی اس کی پیاس کو بجھانے کے لئے یہ چھوٹی سی کتاب جو ہے وہ کافی ہے اور ہر انسان اربوں ارب ہمارے شمار میں ہی نہیں۔ہر نسل آتی ہے بہت بڑی دنیا میں پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کی جگہ دوسری نسل آجاتی ہے۔قیامت تک چلتا رہے گا یہ سلسلہ۔بے شمار یعنی جس کو ہم شمار میں نہیں لا سکتے اتنے انسان پیدا ہوئے اور ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔اپنی ذہنی صلاحیتوں اور قوتوں کے لحاظ سے کوئی دو انسان برابر کے نہیں۔اور ہر دماغ جو ہے وہ ضرورت محسوس کرتا نے بعض ہدایتوں کی کوئی ایسی چیز ہو جس کا سہارا لے کر وہ صحیح راستہ پر آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے اور جس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔اسے وہ حاصل کر سکے۔یہ بھی عظمت ہے۔بڑی عظیم چیز ہے یہ۔اور شرط ایک لگائی گئی قرآن کریم کے معارف حاصل کرنے کے لئے اور اس کی روح کو اپنی روح میں جذب کرنے کے لئے ایک شرط ہے اور وہ شرط ہے تقویٰ کی۔اور شروع میں ہی اعلان کیا گیا کہ: هدى للمتقين (البقره آیت:۳) کہ جو متقی ہو گا وہی قرآن کریم کی ہدایت سے فائدہ اٹھا سکے گا، وہی فائدہ اٹھانے کے لئے قرآن کریم کے معارف اور مطالب کو سمجھ سکے گاھدی للمتقین۔تو دنیا کا کوئی علم علم روحانی ، علم قرآنی سے باہر ایسا نہیں جس کے حصول کے لئے یہ شرط ہو۔یہ ایک ما بہ الامتیاز ہے دنیوی علوم رسمی علوم بھی ان کو کہا جاتا ہے ظاہری علوم بھی کہا جاتا ہے دنیوی علوم یہ سائنسز جو انسان اپنی عقل سے حاصل کرتا ہے۔وحی کے ذریعہ تو سائنس کی ایجادات (اس طرح مجھے کہنا چاہیئے کہ بالکل واضح وحی کے ذریعہ تو انسان کو نہیں سکھائی گئیں۔ویسے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے سامان جب تک نہ پیدا کرے ان میدانوں میں بھی انسان آگے نہیں بڑھ سکتا۔لیکن وہ ایک علیحدہ مضمون ہے اس وقت میں ایک دوسرا مضمون روحانی بیان کر رہا ہوں۔ایک دہر یہ بھی آج کی دنیا میں بڑا بلند پایہ سائنسدان بن گیا، ہزاروں دہر یہ بن گئے۔تثلیث کو ماننے والے بھی سائنسدان بن گئے۔لیکن ہر مسلمان بھی قرآن کریم کے معانی سمجھے والا نہیں بن سکتا۔